Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / ’’نوٹ بندی کے مسئلہ پر پی اے سی ، وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتی ہے ‘‘

’’نوٹ بندی کے مسئلہ پر پی اے سی ، وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتی ہے ‘‘

آر بی آئی اور وزارت فینانس کے جواب کا انتظار ، 20 جنوری کے اجلاس میں فیصلہ متوقع : تھامس

نئی دہلی ۔9 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی ) نوٹ بندی کے مسئلہ پر وزارت فینانس اور آر بی آئی کے گورنر ارجیت پٹیل کی طرف سے دیئے جانے والے جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم نریندر مودی کو طلب کرسکتی ہے ۔ اس مسئلہ پر پی اے سی کا آئندہ اجلاس 20 جنوری کو منعقد ہوگا جس میں آر بی آئی گورنر ارجیت پٹیل ، معتمد فینانس اشوک لاواسا اور معتمد اقتصادی اُمور شکتی کانتاداس بھی موجود رہیں گے ۔ کانگریس کے سنیئر لیڈر اور پی اے سی کے چیرمین کے وی تھامس نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’’ہمیں ان سوالات پر جواب ہنوز موصول نہیں ہوئے ہیں جو سوالات ہم نے انھیں روانہ کیا تھا ۔ وہ 20 جنوری کو ہونے والے اجلاس سے چند دن قبل جوابات بھیجیں گے ۔ ان کے جوابات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا ‘‘ ۔ اس سوال پر کہ آیا جوابات اطمینان بخش نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کو طلب کیا جاسکتا ہے ۔ تھامس نے جواب دیا کہ ’’اس کمیٹی کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ اس معاملہ میں ملوث کسی بھی شخص کو طلب کیا جائے لیکن یہ فیصلہ 20 جنوری کو منعقدشدنی اجلاس کے نتیجہ پر منحصر ہوگا ۔ نوٹ بندی کے مسئلہ پر ہم وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتے ہیں بشرطیکہ تمام ارکان متفقہ طورپر یہ فیصلہ کریں‘‘ ۔ تھامس نے کہاکہ 8 نومبر کو نوٹوں کی منسوخی کے اعلان کے بعد منعقدہ ایک اجلاس میں وزیراعظم سے ملاقات کی گئی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 50 دن یعنی اواخر ڈسمبر تک صورتحال معمول پر آجائے گی لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ چنانچہ صورتحال پر غور کیلئے پی اے سی نے اس فیصلہ سازی کے عمل میں شامل سرکردہ عہدیداروں کو طلب کرنے کیافیصلہ کیا ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی ملک کی معیشت پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ کے وی تھامس نے مزید کہاکہ ’’وزیراعظم محض اپنی انا کو مطمئن کرنے کیلئے ملک کو گمراہ کررہے ہیں وہ اپنے غلط فیصلوں کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے 2000 روپئے کے نوٹوں کی اجرائی کے ذریعہ منصوبہ بند انداز میں ایسا کیا ہے ‘‘ ۔ تھامس نے مزید کہا کہ ’’ایک ایسے ملک میں جہاں کال ڈراپ کا مسئلہ اور ٹیلی کام سہولتیں اطمینان بخش نہیں ہیں اس صورت میں وزیراعظم صرف موبائیل نوٹس کے ذریعہ ای ۔ معاملتوں کی توقع ہی کیسے کرسکتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس اس کے لئے درکار خاطر خواہ انفراسٹرکچر دستیاب ہے؟‘‘ ۔ اس سوال پر کہ آر بی آئی گورنر اور وزارت فینانس کے اعلیٰ افسران کو کس نوعیت کا سوالنامہ روانہ کیا گیا ہے ۔ تھامس نے جواب دیا کہ پی اے سی نے نوٹ بندی کے تمام پہلوؤں پر سوال اُٹھائے ہیں۔ اہم سوالات میں یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ فیصلہ سازی میں کون ملوث تھے ؟ ۔ نوٹ بندی کے بعد کتنی رقم بینکوں میں جمع ہوئی ہے ۔ کیا ایسا بھی کوئی قانون ہے جو عوام کو اپنی رقومات تک رسائی سے روک سکتا ہے؟ ملک کے معاشی نظام میں کتنی رقم واپس آئی ہے ؟ اور آیا نوٹ بندی سے کالا دھن واپس آیا ہے اور آیا معیشت اور غریبوں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں ؟ پی اے سی جو کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) کی رپورٹوں کی تنقیح کرتی ہے اس ضمن میں کئی مسائل کا ازخود نوٹ لی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT