Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نوٹ بندی کے 51 دن بعد بھی مشکلات برقرار

نوٹ بندی کے 51 دن بعد بھی مشکلات برقرار

بینک کی حالت ابتر، پہلی کو وظائف اور تنخواہیں بہ آسانی جاری کرنے حکومت سے مطالبہ

سنگاریڈی۔/28ڈسمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع سنگاریڈی میں نوٹ بندی کے بعد اے ٹی ایمس اور بینکس میں عوام قطاریں لگا کر کھرے ہوئے ہیں۔ 24 ہزار روپئے جاری کرنے مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے لیکن بینکس میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے کھاتہ داروں کو بینک عہدیداروں کی جانب سے من مانی کرتے ہوئے رقم دی جارہی ہے اور سنگاریڈی، سدی پیٹ، میدک ضلع کے تمام بینکس کے حالات ابتر ہوچکے ہیں۔ کئی اے ٹی ایمس کارکرد نہیں ہیں جبکہ 8 نومبر کو وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عوام 500 اور ایک ہزار کے نوٹوں کو قطاروں میں ٹہر کر جمع کروائے اور یہ امید کی کہ بینکس کی جانب سے انہیں معمول کی طرح نوٹ حاصل ہوجائیں گے۔ لیکن اچانک اے ٹی ایمس بند تو کہیں ایک دو کارکرد، 2000 کے نوٹ اے ٹی ایم سے حاصل ہورہے ہیں، حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جلد از جلد کالا دھن کی واپسی کیلئے اس طرح کا اقدام کرتے ہوئے نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا۔51دن بعد بھی عوام اپنا ہی روپیہ جو بینکس میں جمع ہے اسے حاصل کرنے کیلئے بینک میں قطاریں بناکر گھنٹوں کیاش کاؤنٹر کے قریب پہنچنے کا انتظار کررہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ کے عوام کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے بازار میں خرید و فروخت پر کافی اثر پڑا ہے یہاں تک کہ تہوار اور شادیوں میں خرچ کرنا مشکل ترین مسئلہ بن چکا ہے۔ دو ہزار روپئے کی نوٹ کی ریزگاری حاصل کرنا مشکل ترین بن چکا ہے۔ بازار کے چھوٹے و بڑے تاجرین کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے انہیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یکم جنوری 2017 نیا سال کا آغاز ہورہا ہے ملازمین و وظیفہ یابوں کی تنخواہیں جاری کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ سابق میں بینکس کے کاؤنٹرس پر قطاریں ہونے کے باوجود بھی بینکوں کے کیاش کاؤنٹرس میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کیا جاتا تھا اور آج نوٹ بندی کے بعد بینک میں بھی دس گنا پریشانی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ریزروبینک کو چاہیئے کہ بینکس کے کیاش کاؤنٹرس میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو سہولت پہنچائے۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ترقیاتی کام بھی ٹھپ ہوچکے ہیں۔ خود روزگار اسکیم کے کاموں پر بھی اثر پڑا ہے، یہاں تک کہ سیاسی پارٹیوں کے قائدین بھی اپنے جلسے، جلوس میں رقم کے خرچ کو دیکھتے ہوئے جلسوں کو منسوخ کررہے ہیں۔ عوام بے صبری سے انتظار کررہے ہیں کہ جلد از جلد اے ٹی ایم اور بینکس سے بہ آسانی اپنی جمع کردہ رقم حاصل کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT