Monday , May 1 2017
Home / Top Stories / نوٹ کی تبدیلی کے بعد صارفین کی انگلیوں پر نشان لگانے حکومت کا فیصلہ

نوٹ کی تبدیلی کے بعد صارفین کی انگلیوں پر نشان لگانے حکومت کا فیصلہ

کرنسی ریاکٹ سے نمٹنے کے اقدامات، جن دھن کھاتوں پر کڑی نظر، ضروری اشیاء کی سربراہی کا جائزہ
نئی دہلی 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے جن دھن کھاتوں میں مشتبہ ڈپازٹس پر کڑی نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں منسوخ شدہ نوٹوں کی تبدیلی کے لئے بینکوں پر لامتناعہی طویل قطاروں اور اس صورتحال پر ہم عوام کے شدید جذبات پر قابو پانے کے لئے نوٹوں کی تبدیلی سنڈیکٹس (ریاکٹوں) کی سرگرمیوں کو روکنے کے مقصد سے ناکارہ نوٹوں کو تبدیل کروانے والوں کی انگلیوں پر انمٹ سیاہی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے گزشتہ رات طلب کردہ جائزہ اجلاس کے بعد حکومت نے کابینی سکریٹری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی گروپ تشکیل دی ہے جو کرنسی نوٹوں کی قلت کے سبب تجارت میں ہونے والے خلل کے پیش نظر ضروری اشیاء کی سربراہی کی نگرانی کرے گی۔ مخدوش علاقوں میں جعلی کرنسی نوٹوں کے چلن پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں بینک کھاتوں میں دوبارہ کالا دھن جمع کرنے کی کوششوں پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ معتمد معاشی اُمور ششی کانت داس نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ ’’حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کئی مقامات پر چند مخصوص افراد ہی بار بار واپس آرہے ہیں اور نوٹ تبدیل کروارہے ہیں۔ داس نے کہاکہ ’’ہمیں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ چند شرپسند عناصر کالے دھن کو سفید بنانے کی خاطر لاعلم و سادہ لوح افراد کے گروپس بنارہے ہیں

اور اُنھیں ایک برانچ سے دوسری برانچ بھیج رہے ہیں تاکہ ہر جگہ 4,500 روپئے تبدیل کئے جاسکیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ ’’اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ نقد رقم نکالنے کی سہولت محض چند افراد تک محدود ہورہی ہے۔ اس قسم کے بیجا استعمال کو روکنے کے لئے بینکس اور ایکسچینجس نقد رقم حاصل کرنے والوں کی انگلیوں پر انمٹ سیاہی کے نشان لگائیں گے‘‘۔ اس اقدام سے کرنسی کی تبدیلی میں ملوث سنڈیکٹس (ریاکٹس) اور اس قسم کے افراد بار بار بینک پہونچنے سے باز رہیں گے۔ داس نے کہاکہ جن دھن کھاتوں پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہے جنھیں بعض صورتوں میں کالا دھن رکھپنے کے لئے بیجا طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ داس نے کہاکہ ’’جن دھن کھاتہ میں جائز ڈپازٹ کرنے والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ میں جن دھن کھاتہ داروں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے کھاتوں میں دوسروں کو ناجائز رقم جمع کرنے کی اجازت نہ دیں‘‘۔ حکومت کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اکثر جن دھن کھاتوں میں جہاں زیادہ سے زیادہ 50,000 روپئے جمع کرنے کی اجازت ہے لیکن کئی افراد اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 49,000 روپئے جمع کررہے ہیں۔ صارفین کی انگلیوں پر سیاہی لگانے کے بارے میں بینکوں کی جانب سے کارکردگی کے رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT