Sunday , October 22 2017
Home / بچوں کا صفحہ / نوکر سے معافی

نوکر سے معافی

سرسید احمد خاں پہلے مسلمان رہنما ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے پر اُبھارا اور مسلمانوں سے چندہ جمع کرکے علی گڑھ کالج قائم کیا جو بعد میں ترقی کرکے مسلم یونیورسٹی بن گیا۔
سرسید احمد خاں دہلی  ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد خاصے امیر آدمی تھے۔ امیروں کے بچے لاڈلے ہونے کی وجہ سے اکثر بگڑ جاتے ہیں، مگر سرسید احمد خاں کی والدہ پڑھی لکھی، دین دار اور نیک خاتون تھیں۔ وہ اولاد کی تربیت کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے سرسید احمد خاں ابھی بچے ہی تھے، انھوں نے اپنے نوکر کی کسی بات پر خفا ہوکر اسے تھپڑ مار دیا۔ والدہ کو معلوم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوئیں اور کہا :’’جب تک نوکر سے معافی نہیں مانگو گے، روٹی نہیں ملے گی‘‘۔سید احمد خان اپنی خالہ کے ہاں چلے گئے اور دو روز تک وہیں رہے۔ تیسرے دن ان کی خالہ ان کی والدہ کے پاس آئیں اور سید احمد خاں کی سفارش کرنے لگیں مگر انھوں نے کہا :’’میں ایسے گستاخ لڑکے کو گھر میں رکھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ اس سے کہو کہ پہلے نوکر سے معافی مانگے‘‘۔ خالہ نے بڑی سفارشیں کیں مگر سید احمد خاں کی والدہ اپنی بات پر بضد رہیں۔ آخرکار خالہ نے واپس جاکر سید احمد خاں کو تمام بتائی کہ جب تک تم نوکر سے معافی نہیں مانگو گے، تمہاری والدہ تمہیں گھر آنے کی اجازت نہیں دیں گی۔سید احمد خاں نے جب یہ دیکھا کہ گھر واپس جانے کی اور کوئی صورت نہیں تو انھوں نے نوکر سے معافی مانگ لی۔ تب والدہ نے انھیں گھر آنے دیا۔سر سید احمد خاں اپنی والدہ کی اس بات کو زندگی بھر نہیں بھولے۔ بڑے ہوکر انھوں نے بہت عزت اور شہرت حاصل کی مگر وہ ملازموں اور اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ خوش اخلاقی اور نرمی سے پیش آتے اور کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیتے۔

TOPPOPULARRECENT