Tuesday , September 19 2017
Home / مضامین / نوک جھونک

نوک جھونک

کے این واصف
ہنسنا، مسکرانا یا قہقہے لگانا بھی ایک ایسا عمل ہے جو حیوان اور حیوانِ ناطق کے درمیان فرق واضح کرتاہے ۔ ہنسنا ، قہقہ لگانا اچھی صحت کی ضمانت بھی مانا جاتا ہے ۔ ڈاکٹرس کے مشورے پر کئی شہروں میں لوگ لافنگ کلبس قائم کر رہے ہیں جہاںلوگ اپنے پھیپھڑوں کی ورزش کیلئے بے محل قہقہے لگاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مجموعی طورپر اپنے آپ کو خوش رکھنے ، ذہن کو الجھنوں سے آزآد کرانے کیلئے لوگ ہلکی پھلکی مزاحیہ تحریریں اسی قسم کے ٹی وی پروگرامس دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صبح جب اخبار اٹھاتے ہیں تو اس کا ہر صفحہ ہمیں دکھی کرنے والی خبریں دیتا ہے ۔ بقول معروف شاعر ساغر خیامی  ؎
میں کس کو دفن کروں کس کو پھونکنے جاؤں
رہی سہی مری جاں بھی نکال دیتا ہے
اندھیرے منہ کوئی اخبار بیچنے والا
ہزار لاشیں مرے در پہ ڈال دیتا ہے
اپنے ذاتی مسائل ، الجھنیں ، اپنے اطراف اور دنیا میں و قوع پذیر ہونے والے دردناک واقعات انسان سے اس کی مسکراہٹیں چھین لیتے ہیں۔ طبیعت بوجھل کردیتے ہیں ۔ ذہنی تناؤ اور طبیعت کے بوجھل پن کو دور کرنے اور اپنے اطراف کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کا آسان نسخہ نوکا جھونکی ہی ہے۔

نوک جھونک آپسی چھیڑ چھاڑ یا نظریاتی اختلافات ، پرامن مباحثے کو ایک صحت مند معاشرے کی علامت کہا جاسکتا ہے ۔ (واضح رہے کہ یہاں ’’نوکا جھونکی‘‘ سے مراد مزاح کا عنصرلئے ہوئے لفظی چھیڑ چھاڑ ہے)۔ نوکا جھونکی گھر میں ہو ، نجی محفل یا عام اجتماع میں ، جہاں دو یا دو سے زیادہ افراد یکجا ہوں وہاں نوک جھونک و غیرہ کی گنجائش نکل ہی آتی ہے ۔ عام طور پر انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں وقت کا بڑا حصہ گھر پر گزارتا ہے ۔ لہذا گھر میں میاں بیوی کے درمیان بھی نوک جھونک ، طنز و مزاح کے جملوں کا تبادلہ چلتا رہتا ہے ۔ یہ سلسلہ گھر کے ماحول کو خوشگوار بھی رکھتا ہے ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے ۔ بشرطیکہ طرفین میں حس مزاح کا عنصر ہو ورنہ کسی ایک فریق میں اس کا فقدان گھر کے ماحول کے بگاڑ کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ مختصر یہ کہ فریقین کا ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کوملحوظِ خاطر رکھنا اور اخلاق اور بد اخلاق کے درمیان خط فاصل قائم رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ خواتین سے معذرت کے ساتھ ہم یہاں کہیں گے کہ جہاں تک حس مزاح کا تعلق ہے وہ صنف نازک میں نسبتاً کم پایا جاتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مزاحیہ ادب کے لکھنے والوں میں خواتین کی موجودگی نہیں کے برابر ہے جبکہ سنجیدہ ادب میں ہر دور میں جید خاتون قلمکار رہی ہیں لیکن بے چاری خواتین اکثر مرد مزاح نگاروں کی تخلیقات میں تختہ ٔ  مشق بنی رہتی ہیں ۔ ہمارے مزاحیہ شاعروں کی تخلیقات تو بیوی ، ساس اور سالیوں کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہیں۔ چند ایک مزاح نگار ہی ایسے ملیں گے جو شاید ’’منظور تھا پردہ تیرا‘‘ کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تخلیقات میں بیوی، ساس یا سالیوں کو موضوع نہیں بناتے۔ ویسے بیویوں پر لطیفے تو ہر زبان میں ملیں گے۔
ہم چونکہ ربع صدی سے ملک سے باہر ہیں اور مملکت سعودی عرب میں مقیم ہیں، اس لئے ہمیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں رہنے والے ہندوستانیوں اور دنیا کے دیگر ممالک کے رہنے والوں سے ربط  ضبط کی وجہ سے ان کے معاشرتی قدروں ، رہن سہن اخلاقی قدروں وغیرہ سے خاصی واقفیت ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں کے عربی اخبارات میں سماجی موضوعات پر شائع مضامین اور کارٹونس دیکھنے سے سعودی یا عرب معاشرے کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس کی بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی ہر عورت کا مزاج تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے اور میاں بیوی کے درمیان خوشگوار تعلقات پرناچاقی کے بادل کا چھانا پھر تو تو ، میں میں کی تیز بارش یا ناراضگیوں کی رم جھم کے بعد پھر سے زندگی کے موسم کا خوشگوار ہونا سب کچھ ایک جیسا ہی نظر آتا ہے۔ قارئین کرام ! ایسا لگ رہاہے کہ ’’نوکا جھونکی‘‘ کے موضوع پر شروع ہوئی یہ گفتگو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ڈگر پر چل نکلی ہے ۔ آئیے یہاں ا پنے ارد گرد دیکھے یا سنے نوکا جھونکی کے واقعات یا کہیں پڑھے لطائف پیش کر کے اس گفتگو کے رنگ کو تبدیل کیا جائے ۔ ایک صاحب گھر پر بیشتر اوقات ٹی وی دیکھنے میں صرف کیا کرتے تھے ۔ایک روز ان کی بیوی نے تنگ آکر کہا کاش میں آپ کی بیوی نہیں ٹی وی ہوتی اور دن بھر آپ کی نظریں مجھ پرہوتیں۔ شوہر نے کہا میری بھی یہی  خواہش ہیکہ میں جب چاہتا اس کی آواز بند (Mute) کرسکتا۔ایک صاحب سے ان کی بیوی نے کہا میرا ذہنی تناؤ ختم کرنے کیلئے ڈاکٹر نے مجھے لندن یا پیرس میں کچھ دن چھٹیاں گزارنے کا مشورہ دیا ہے تو بتائیے ہم کہاں جائیں گے ۔ شوہر نے جواب دیا ’’دوسرے ڈاکٹر کے پاس‘‘

ایک بلا نوش شوہر کو بیوی نے اخبار میں شائع ایک مضمون دکھاتے ہوئے کہا یہ مضمون پڑھئیے۔ شراب انسانی صحت کیلئے کتنی مضر ہے۔ شوہر نے مضمون پڑھا اور اخبار میز پر رکھتے ہوئے کہا ’’ٹھیک ہے کل سے بند‘‘ اور شوہر نے دوسرے دن سے گھر پر اخبار منگوانا بند کردیا۔ بیوی نے شوہر سے کہا ’’آپ کی سالگرہ پر آپ کو کیا تحفہ چاہئے ۔ شوہر نے کہا ’’تم مجھ سے پیار کر و، محبت سے پیش آؤ، میرا کماحقہ عزت و احترام کرو اور میرا کہا مانتی رہو، یہ میرے لئے سب سے بڑا تحفہ ہوگا‘‘۔ بیوی نے چند لمحے سوچ کر کہا ’’نہیں میں آپ کو گفٹ ہی دوں گی‘‘۔
شوہر نے ناراضگی کے ساتھ بیوی سے کہا یہ سالن ہے ؟ اس میں تو نمک ہے ہی نہیں۔ اس پر بیوی نے کہا دراصل آج سالن جل گیا تھا ۔ شوہر نے کہا سالن جلنے سے نمک نہ ہونے کا کیا تعلق ہے ۔ اس پر بدلہ سنج بیوی نے کہا ’’میں نے جلے پر نمک چھڑکنا مناسب نہیں سمجھا‘‘

یہاں عرب باشندوں میں ایک سے زائد شادی کرنے کا عام رواج ہے مگر اب نئی نسل کی عرب لڑکیاں اس رواج کو ناپسند کرنے لگی ہیں۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے ۔ چلئیے اپنے نوک جھونک کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں ۔ ایک عرب باشندے نے اپنی بیوی سے کہا میں تمہیں کوئی قیمتی تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ بتاؤ تمہیں کیا چاہئے ؟ بیوی نے فوراً کہا ’’سوتن کے سواء کچھ بھی لے آئیے‘‘۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ’’یہ بتایئے کیا میں آپ کے خواب میں آتی ہوں‘‘ ۔ شوہر نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ بیوی نے اصرار سے پوچھا کبھی بھی نہیں؟ شوہر نے پھر کہا ’’نہیں‘‘۔ تو بیوی نے کہا ایسا کیوں کیا میں آپ ذہن و قلب میں نہیں رہتی۔ شوہر نے کہا ایسا نہیں ہے ۔ بات یہ ہے کہ میں سونے سے قبل آیت الکرسی پڑھ کر سوتا ہوں۔
یہاں ہمارے ایک قریبی دوست ہیں۔ دونوں میاں بیوی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتے اور خود شعر بھی کہتے ہیں۔ ایک روز ہم ان کے گھر پہنچے۔ ہمارے دوست کھانے کی میز پر بیٹھنے لگے تھے ۔ ہم طعامی کیلئے ہمیں بھی اصرار کیا ۔ ہم نے دیکھا کہ ان کی بیگم کھانے کی میز پر نہیں آرہی تھیں۔ ہم نے وجہ دریافت کی ۔ اس سے قبل وہ کچھ کہتیں ہمارے دوست نے فوراً کہا’’وہ تاؤ کھاکر بیٹھی ہیں کھانا نہیں کھائیں گی‘‘۔
شوہر کے اس جملے پر خاتون نے مسکرادیا اور فوراً کھانے کی میز پر آ بیٹھیں کیونکہ یہ جوڑا تعلیم یافتہ ہے اس لئے ان کے مزاج میں بذلہ سنجی ، ایک دوسرے کو سمجھنے کا مادہ ، بردباری وغیرہ کی وجہ سے معاملہ یوں جلد سلجھ گیا ۔ برخلاف اس کے ہم نے کہیں ایک اور واقعہ سنا تھا ۔ ایک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ جوڑا تھا ۔ شوہر شعر و ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتا تھا۔ بیوی بھی پڑھی لکھی تھیں مگر سخن فہم تھیں نہ ادب سے کوئی لگاؤ ۔ سردیوں کی ایک رات شوہر نے بیوی کو ایک شعر سنایا جو یوں تھا  ؎

سردیوں کا موسم ہے آگ کی ضرورت ہے
تم ذرا قریب آؤ یہ بھی ایک صورت ہے
اس رومانٹک شعر کا بیگم نے مطلب کچھ  غلط نکالا اور آگ بگولہ ہوکر بولیں’’آپ کبھی میرے تعلق سے کوئی اچھی بات اپنے منہ سے نکالیں گے ؟ میں آپ کو آگ نظر آتی ہوں اور فلاں فلاں … بیگم کے اس ردعمل سے شوہر دم بخود رہ گیا ۔ نیز ان کے جذبات تو کافور ہو ہی گئے مگر انہیں اپنی بیگم کے شعر و ادب سے اس قدر نابلد ہونے کا زیادہ دکھ ہوا۔
بہرحال نوکا جھونکی کبھی بھی اور کہیں بھی ہو، ماحول کو خوشگوار رکھتی ہے ۔ بشرطیکہ جن کے درمیان نوک جھونک ہورہی ہے ، ان میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کا مادہ ، ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ رکھنے کا جذبہ ضروری ہے ۔ ورنہ یہ نوک جھونک اس کے لغوی معنیٰ لعن طعن ، الجھاؤ ، بحث و تکرار کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔
ہم نے کسی مزاحیہ تحریر میں پڑھا تھا کہ شادی وہ عمل ہے جس میں دو فریق ایک دوسرے کو سکون سے رہنے نہیں دیتے لیکن گھر میں اگر ہنسی مذاق اور نوکا جھونکی کا ماحول بنا رہے تو یہی فریقین اپنی زندگی کو خوشگوار بناسکتے ہیں اور زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا آسانی سے کرسکتے ہیں۔ کسی سیاح نے کہا ہے کہ ’’زندگی ایسے جیو کہ کوئی ہنسے تو تمہاری وجہ سے ہنسے اور کوئی روئے تو تمہارے لئے روئے ، تمہاری وجہ سے نہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT