Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / نویں اور دسویں جماعت میں اختیاری مضمون کی برخواستگی کا لعدم

نویں اور دسویں جماعت میں اختیاری مضمون کی برخواستگی کا لعدم

طلبہ کو راحت ، عربی و سنسکرت زباندانوں کو فائدہ ، اساتذہ کے تقرر کی راہیں ہموار
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ کی جانب سے نویں اور دسویں جماعت میں اختیاری جامع (Composite) زبان کی برخواستگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جی او یم ایس نمبر 6 محکمہ اسکولی تعلیمات کی جانب سے جاری کردیا گیا ہے ۔ 17 فروری 2016 کو جاری کردہ اس احکام کے بعد گزشتہ چند برسوں سے برخواست کیے گئے اس اختیاری زبان کے معاملہ کو حل کرتے ہوئے طلبہ کو راحت پہنچائی ہے وہیں اس کا فائدہ عربی اور سنسکرت زبان جاننے والے نوجوانوں کو بھی ہوگا ۔ چونکہ سابق میں حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جامع زبان کے طریقہ کار کو ختم کیا گیا تھا کہ عربی اور سنسکرت کے اساتذہ کی گھٹتی تعداد کے سبب طلبہ کی تعلیم پر اثر ہورہا ہے ۔ سرکاری احکامات کی اجرائی کے بعد اب شہر و ریاست میں موجود تمام اسکولوں میں جہاں یس یس سی تک تعلیم کا انتظام ہے وہاں عربی ، فارسی سنسکرت کے اساتذہ کے تقرر کی راہیں ہموار ہوئی ہیں ۔ حکومت نے جامع زبان کے نظام کو بحال کرتے ہوئے جاری کردہ احکامات میں یہ واضح کردیا ہے کہ مضامین میں سے کسی ایک مضمون کو ترک کرتے ہوئے یس یس سی طلبہ عربی ، فارسی یا اردو بطور جامع زبان اختیار کرسکتے ہیں اور اس کے لیے علحدہ علحدہ نشانات مقرر کئے گئے ہیں ۔ جامع لسانی امتحان میں طلبہ کو دیگر مضامین سے بہتر مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اسی لیے اساتذہ کا ہونا لازمی ہے ۔ سابق میں دور آصفیہ کے تمام اسکولوں میں طلبہ کو یہ سہولت حاصل تھی اور شہر کے بیشتر اسکولوں میں یہ سہولت دستیاب تھی لیکن حکومت کی جانب سے جامع زبان اختیار کرنے کی برخواستگی کے بعد بیشتر اسکولوں میں ان جامع زبانوں کے لیے جو جائیدادیں تھیں وہ مخلوعہ ہوگئی تھیں لیکن اب ان احکامات کی اجرائی کے بعد اسکولوں میں مزید جائیدادیں کھل سکتی ہیں جن پر عربی و فارسی کے علاوہ سنسکرت جاننے والے نوجوان بحیثیت سرکاری اساتذہ تقرر حاصل کرنے کے متحمل قرار پا سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT