Monday , July 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / نکاح۔ رزق وروزی میں برکت کا ذریعہ

نکاح۔ رزق وروزی میں برکت کا ذریعہ

نکاح اللہ کی رضا اوراسکی خوشنودی اورتکمیل سنت کے جذبہ سے کیا جائے تو کشادہ رزق وروزی کے مشروع اسباب ووسائل میں اسکاشمارکیا گیاہے ،اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے’’جوبے نکاح ہوں خواہ وہ خواتین ہوں کہ مرد انکا نکاح کرادوجونیک ہوں خواہ وہ تمہارے غلام ہوں کہ باندیاں اگروہ مفلس ہونگے تو اللہ سبحانہ ان کو اپنے فضل سے بے نیاز فرما دیگا،اللہ سبحانہ وسعت وکشائش رکھنے والا اورجاننے والا ہے‘‘ (النور/۳۲)اپنے دین اوراپنی عفت وعصمت کی حفاظت کی غرض سے جو نکاح کرنا چاہتے ہوں انکے لئے اللہ سبحانہ کا اس آیت پاک میں وعدہ ہے کہ وہ اپنے فضل سے انکوغنی بنا دیگا،اس آیت پاک میں ’’واللّٰہ واسع علیم‘‘ فرما یا گیا ہے یعنی اللہ کو کشائش وفراخی عطافرما نے پر پوری طرح قدرت حاصل ہے ،اللہ سبحانے اپنی صفات ’’واسع علیم‘‘  بیان فرماکرنکاح کرنے پر فراخی ووسعت عطا فرمانے کے وعدہ کومزید متحقق فرما یاہے ، اس لئے اس پر ایقان کی ضرورت ہے ، نکاح کانہ کرنا ضروری نہیں کہ انسان کوغنی وبے نیاز رکھے اورنہ تویہ بات درست ہوسکتی ہے کہ نکاح کرنا غربت وافلاس کا موجب بنے ،بساوقات نکاح کرتے ہوئے اس بات کا خوف دامن گیرہوتا ہے کہ بیوی کی اخراجات پھر اس سے ہونے والی اولاد کی ذمہ داریاں کیسے نبھائی جاسکیں گی اس طرح کا احساس مادی سوچ وفکرکی وجہ سے دامن گیرہوتا ہے ۔اللہ سبحانہ کی شان کریمی تو یہ ہے کہ ’’جو بندے اللہ سے ڈرتے اللہ سبحانہ اسکے لئے مصائب سے بچ نکلنے کا راستہ نکال دیتے ہیں اور انسان کو ایسی جگہ سے رزق وروزی فراہم فرما دیتے ہیں جسکا بندے کو گمان بھی نہ ہواورجو اللہ پرتوکل وبھروسہ کریگا اللہ سبحانہ اسکے لئے کافی ہوگا۔‘‘(الطلاق:۲؍۳) شرط یہ ہے کہ اللہ سبحانہ کا ڈروخوف اسی پر توکل واعتمادہو،انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی محنت سے روزی کماتا ہے جبکہ ہر گز ایسا نہیں کیونکہ تمام مخلوق کا نظام معاش اللہ سبحانہ نے اپنے دست قدرت میں رکھا ہے ۔رزق کی بست وکشاد اسی کے ہاتھ میں ہے ، رزق وروزی کی کمی وزیادتی اللہ سبحانہ کی حکمت ومشیت پر موقوف ہے ’ ’اللہ سبحانہ جسکی چاہتا ہے رزق وروزی کشادہ فرمادیتا ہے اورجسکی چاہے گھٹا دیتا ہے‘‘(الرعد:۲۶)۔مادی نقطہ ء نظرسے سوچ وبچار کے عادی افراد کیلئے اللہ سبحانہ کے ان ارشاد ات میں نظام قدرت کے روح پر وراورحیات بخش احکام الہی میں غوروفکرکی دعوت ہے ،یہ ارشاد پاک بھی سرمہ بصیر ت بنا لیا جائے تو روح ایمان اورتازہ ہوجائے گی۔ ارشاد باری ہے ’’اوراگرتم فقروغربت کا خوف کرتے ہوتواللہ سبحانہ عنقریب تم کو اگر چاہے تواپنے فضل سے تونگربنا دیگابے شک اللہ سبحانہ جاننے والااورحکمت والاہے ‘‘ (التوبہ:۲۸)یہ آیت کا نزول حر م پاک میں کفارو مشرکین کی آمد ورفت بندہوجانے سے اہل اسلام اپنے معاشی وسائل میں خوف محسوس کررہے تھے گوکہ اس پس منظرمیں یہ آیت پاک نازل ہوئی ہے لیکن اسکا حکم عام ہے دین داری ،تقوی وپر ہیزگاری اوراللہ سبحانہ وتعالی پر اعتمادویقین رکھنے والے ہرمومن کیلئے یہ وعدہ ہے ،غناء وتونگری کی نعمت کا نصیب ہوجانا اللہ سبحانہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ نکاح نہ کرنے یا نکاح میں تاخیر کرنے کے بارے میں غربت تنگدستی کوبہانا نہیں بنایا جانا چاہیے ،اللہ سبحانہ کو قدرت حاصل ہے کہ وہ ایک تنگدست کو نکاح کے بعد اپنے فضل وکرم سے وسعت وفراخی عطافرما دے ،اس آیت پاک میں انکے لئے خصوصی پیغام ہے جونیک دین داراورغریب خاند ان کے لڑکے کا رشتہ آجائے تو محض اسکی غربت کی وجہ رشتہ کو مسترد کردیتے ہیں ،غربت وتونگری کوئی دائمی مسئلہ نہیں،مشیت ایزدی اورفضل الہی شامل حال ہوجائے تو ایک غریب آن کی آن میںمال داروتونگربن سکتاہے ،اورکبھی ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک امیرآن کی آن میں غربت وافلاس کا شکار ہوجائے۔
اعتبارنسیت قدسی طائراقبالؔ را
ایں کبوتر ہر زماں مشتاق بام دیگراست
بنیادی اعتبارسے رشتہ کرنے میںاصلاً دین داری ،تقوی وپرہیزگاری،شرافت وانسانیت ،محنت وجستجواورصلاحیت عمل پیش نظر ہو ، کسی غریب لڑکے میں یہ صفات پائی جائیں تو وہ اس قابل ہے کہ اس سے رشتہ کیا جائے اوراس آئے ہوئے پیام کو ہرگز نہ ٹھکرایا جائے،اکثرلڑکے والوں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی متمول خاندان کی ہو،تاکہ اس رشتہ کی وجہ مال ودولت اوراسباب معیشت مفت ہاتھ آجائیں اس فکری زوال نے ایمان ویقین کی بساط الٹ دی ہے خالق کے بجائے مخلو ق کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بیماری معاشرہ میں سرایت کرگئی ہے۔موجودہ معاشرہ کتاب وسنت کی ہدایات کو فراموش کرنے کی وجہ مشکلات سے دوچارہے ،اسکا آسان حل یہی ہے کہ رشتہ کرنے کے بارے میں الہی ہدایات ونبوی ارشادات کوسامنے رکھا جائے ،دینی نہج سے غوروفکرکرنے کا مزاج بنایا جائے، مادی طرز فکرسے دست برداری اختیار کی جائے ۔ حدیث پاک میں اللہ کی جانب سے اسکی یقینی مددکاوعدہ ہے جوپاک دامن رہنے کی جذبہ سے نکاح کرتاہو (ترمذی ۔ابواب فضائل الجہاد)سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ سبحانہ نے نکاح کی تاکید بیان فرمائی ہے اس حکم کی فرما ںبرداری کرو، غنا ء کا جووعدہ ہے اللہ سبحانہ پورا فرما ئے گا پھرآپ نے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔حضرت عمر   ابن الخطاب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں تعجب ہے اس شخص پر جونکاح کے ذریعہ غنا ء وبے نیا زی کا طلب گارنہ بنے جبکہ اللہ سبحانہ کا اس بارے میںارشادہے پھر اسی آیت مبارکہ کی آپ نے تلاوت فرمائی ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حق سبحانہ وتعالی نے اس آیت پاک میں سارے مسلمانوں کونکاح کی ترغیب دی ہے اوریہ ترغیب بیوہ غیرشادی شدہ ،آزاد وغلام سب کوشامل ہے ،اوراللہ سبحانہ نے نکاح کرنے والوں سے غنا ء کا وعدہ فرما یا ہے ۔عبداللہ ا بن مسعودرضی اللہ عنہ اس آیت پاک کا حوالہ دیکر فرما تے ہیں تم غنی وبے نیاز ہونا چاہتے ہوتونکاح کرو کیونکہ اللہ سبحانہ نے اس آیت پا ک میں اسکا وعدہ فرما یا ہے ۔ اسلام نے ایک فطری نظام انسانوں کو دیا ہے ،فطری طورپر نکاح انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سے قبل یہ نظام فطرت(شادی ،بیاہ)مذہبی حدبندیوں سے آزاد تھا ۔اس آزادی نے معاشرہ کو تباہی وبربادی کے دہانے پر پہونچا دیا تھا۔نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ    علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کوالہی حدود وقیود کا پابندکیا گیا،یہی وجہ ہے کہ لڑکا ولڑکی کے سن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد نکاح کو ایک بنیادی وفطری ضرورت جان کرانجام دے لیا جاتا تھا۔ نکاح کے انعقاد میں معاشی حالات آڑے نہیں آتے تھے،چونکہ انکی زندگی میں قناعت تھی ۔اللہ کا خوف اورخوف آخرت ہر ایک کے دل میں راسخ تھا،اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے جائز راہ سے محنت وکسب کو عارنہیں سمجھا جاتا تھا،ہمارا موجودہ معاشرہ اس سے بڑی حد تک محروم ہے جس کی وجہ نکاح جوآسان ترین عمل تھا مشکل ترین عمل بن گیا ہے ۔معاشی خوشحالی اورتعیش کی حد تک اسبا ب کی فراہمی نکاح کے لئے لاز م گردان لی گئی ہے۔اگریہ اسباب خود کی محنت سے فراہم نہ ہوں یا کسی کے ہاں فراہم بھی ہوںتو ’’ہل من مزید‘‘کا جذبہ سسرال والوں کے آگے دست سوال دراز کرنے پر مجبورکرتا ہے،حمیت وغیرت کے رخصت ہوجانے سے اس وقت معاشرہ کا اکثرحصہ اس مرض میں مبتلاء ہے۔کئی ایک لڑکیاں ان بیاہی کسی اچھے نیک اور خداترس رفیق سفرکے انتظارمیں جوانی سے بڑھاپہ کی دہلیزپر پہونچ رہی ہیں۔نکاح جب مشکل ہوجائے تو ظاہر ہے معاشرہ جنسی انارکی کا شکارہوجاتا ہے ،معاشرہ کی تطہیرکے لئے اسلام کی تعلیمات پر ایمان ویقین کے ساتھ عمل کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں ہے ۔اس خصوص میں نئی نسل کی دینی نہج پر تعلیم وتربیت ،سائنسی ایجادات ،جیسے ٹیلی وـیژن،انٹرنیٹ،اسمارٹ موبائیل فونس،وغیرہ کے غلط استعمال ، مخلوط تعلیم کے نظام بے حیائی وبے دینی کے رواں سیلاب میں بہنے سے ان کو بچانے کی والدین کو فکرکرنے کی اشد ضرورت ہے۔دین دارانہ فضاء کو عام کرکے حال وماحول کواسلامی تعلیمات کے فروغ سے پاکیزہ بنانا ملت اسلامیہ کے سارے افراد پر فرض ہے۔ جسکی وجہ نئی نسل صحیح رخ پر سوچنے  اوردرست راستہ پر قدم بڑھانے کی قابل بن سکے گی۔نیک عادات واطوار اسلامی تربیت کی وجہ انسان میں پیداہوتے ہیں ،اوران کی حیثیت ایک طرح سے مشک کی خوشبو جیسی ہے جس سے معاشرہ معطرہوتاہے ۔اسلامی ڈھنگ سے تربیت نہ ہو اورخارجی احوال بھی بے دینی وخدابے خوفی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں تو ظاہر ہے معاشرہ میں پاکیزہ اخلاق کی خوشبو کے بجائے جرائم ،برائیوں اورگناہوں کی بدبو وسڑاہند معاشرہ کے فطری وروحانی مشام جاں کو متاثر کرسکتی ہے جسکے کچھ اثرات بدسماج میں دیکھے جارہے ہیں۔اسلئے عصری علوم میں نوجوانوں کو مہارت حاصل کرنے کے لئے اسباب کی فراہمی سے زیادہ کتاب وسنت کی پاکیزہ تعلیمات ،سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،اصحاب کرام کی مبارک زندگی کے احوال اوراولیاء امت کی اسلامی احکام کی پابند عملی زندگی کے گوشوں سے ان کو روشناس کروانا ضروری ہے۔تاکہ وہ زندگی کے سارے گوشوں بشمول نکاح کے فطری گوشہ میں اسلام کی دی گئی رہنمایا نا ہدایات کو سرمہ بصیرت بنالیں۔تعیشانہ اسباب زندگی کی تحصیل کی فکرمیں نکاح کے بغیرعمرعزیز کے قیمتی لمحات کو ضائع نہ کریں ،لین دین ،گھوڑے جوڑے وغیرہ کی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرکے اپنی محنت پر انحصارکرتے ہوئے اسلامی طریقہ پر نکاح جیسی سنت کو اپنا کر خود بھی اپنے نفس پر ظلم ڈھانے اورمعاصی سے بچنے اورسماج میں رفیق سفرکے انتظارمیں بیٹھی دیندارلڑکیوں اورانکے والدین کومصائب وآلام میں گرفتا ہونے سے بچائیں ۔اوراللہ سبحانہ کے وعدہ ’’کہ اگروہ (نکاح کرنے والے )  محتاج ہوں تواللہ سبحانہ ان کو اپنے فضل سے بے نیاز فرمائیگا‘‘  پر ایمان ویقین رکھیں غیرت وحمیت کا سودہ نہ کریں اور کا سہ گدائی لئے ہوئے سسرال والو ں کے آگے  پیش ہونے سے سخت اجتناب واحتراز کریں۔اس سے رزق وروزی میں بڑی برکت آئے گی اورآسودہ حالی نصیب ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT