Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / نہرو کا کینیڈی کو مکتوب، فائٹرس جیٹ فراہم کرنے کی درخواست

نہرو کا کینیڈی کو مکتوب، فائٹرس جیٹ فراہم کرنے کی درخواست

سابق سی آئی اے عہدیدار بروس ریڈل کی کتاب میں دلچسپ انکشافات

واشنگٹن 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق ہندوستانی وزیراعظم آنجہانی جواہر لال نہرو نے 1962 ء میں چین کی ہندوستان پر فوج کشی کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر آنجہانی جان ایف کنیڈی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے چین کی جارحیت سے نمٹنے جیٹ فائٹر طیارہ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایک نئی کتاب میں اس کا انکشاف کیا گیا ہے جس کے مطابق 1962 ء میں ہندوستان پر چین کی فوج کشی کرنے کے ماؤزے تنگ جو عوامی جمہوریہ چین کے بانی تصور کئے جاتے ہیں، کا مقصد جواہرلال نہرو کی توہین کرنا تھا جو تیسری دنیا کے ایک اہم قائد کی حیثیت سے اُبھر رہے تھے۔ سی آئی اے کے ایک سابق عہدیدار بروس ریڈل نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا عنوان ہے ’’جے ایف کے کا فراموش کردہ بحران : تبت، سی آئی اے اور ہند ۔ چین جنگ‘‘ جس میں اُنھوں نے واضح کیا ہے کہ فارورڈ پالیسی کو ہندوستان کی جانب سے اطلاق کئے جانے پر چین نے ستمبر 1962 ء میں سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اُنھوں نے مزید کہا ہے کہ ماؤزے تنگ کی تمام تر توجہ نہرو پر تھی۔

ریڈل نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی شکست دراصل ماؤزے تنگ کے مزید دو دشمنوں کی شکست کے مترادف ثابت ہوتی ہے جو دراصل نکیتا خروشچیف اور کینیڈی تھے۔ جنگ کے دوران ہندوستان کے ہاتھوں سے اُس کے کئی علاقے نکلے جارہے تھے اور ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی بہت زیادہ ہوگئی تھیں لہذا جواہر لال نہرو رنجیدہ ہونے کے علاوہ بوکھلاہٹ کا بھی شکار ہوگئے تھے اور انھوں نے نومبر 1962 ء میں اُس وقت کے امریکی صدر جان ایف کنیڈی کو مکتوب تحریر کیا تھا جہاں اُنھوں نے ہندوستان کے لئے جیٹ فائٹرس کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ چینی جارحیت کا مؤثر فضائی حملوں کے ذریعہ منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ جواہرلال نہرو نے کہا تھا کہ صرف ہندوستان کی جانب سے ہی نہیں بلکہ ہمارے دوست (امریکہ) کی جانب سے بھی ہمیں مزید مؤثر اقدامات کرنے ہیں۔

مسٹر ریڈل نے کہاکہ یہی نہیں بلکہ جواہرلال نہرو نے اُس مکتوب کے بعد بہت ہی قلیل عرصہ میں دوسرا مکتوب بھی تحریر کیا تھا جس میں نہرو کی طرز تحریر سے ’’دہشت زدہ‘‘ ہوجانا مترشح تھا اور اُس مکتوب کو اُس وقت کے ہندوستانی سفیر متعینہ امریکہ بی کے نہرو نے شخصی طور پر کنیڈی کے حوالہ کیا تھا۔ نہرو نے کنیڈی سے خواہش کی تھی کہ امریکہ بھی ہندوستان کی چین کے ساتھ جنگ میں فضائی حملوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ نہرو کے مکتوب تحریر کرنے سے قبل ہی اُس وقت کے امریکی سفیر متعینہ ہند گلبرٹ نے وائیٹ ہاؤس کو ٹیلی گرام روانہ کیا تھا اور صدر موصوف کو یہ پیشگی اطلاع دے دی تھی کہ جواہر لال نہرو کی جانب سے فلاں فلاں مکتوب صدر موصوف کو ملنے والا ہے۔ بہرحال مکتوب مل گیا جس میں جواہر لال نہرو نے امریکی فضائیہ کے 12 اسکواڈرن کی خذمات فراہم کرنے کی خواہش کی تھی۔ ریڈل نے کتاب کے ان تمام قتباسات کو بروکنگس انسٹی ٹیوٹ (واشنگٹن) میں ریڈرس کے ایک مجمع کو پڑھ کر سنایا جو دراصل مغربی ممالک میں کسی بھی کتاب کے پروموشن کا حصہ ہوتا ہے اور مصنف خود اپنی تحریر کردہ کتاب کو مکمل طور پر یا پھر اُس کے اہم اقتباسات وہاں موجود سامعین کو پڑھ کر سناتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT