Friday , March 31 2017
Home / شہر کی خبریں / نیا قلعہ گولکنڈہ میں کھدوائی پر حمام ، حوض اور فوارے برآمد

نیا قلعہ گولکنڈہ میں کھدوائی پر حمام ، حوض اور فوارے برآمد

محکمہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی کھدوائی ، تاریخی ورثہ کو محفوظ طریقہ سے برآمد کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) محکمہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے قلعہ گولکنڈہ کے قریب موجود نیا قلعہ کی کھدوائی کے دوران حمام‘حوض کے علاوہ فوارے برآمد کئے گئے ہیں۔ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے گنبدان قطب شاہی میں کئے گئے کھدوائی کے کاموں کے دوران نیا قلعہ میں بھی آثار قدیمہ کے باقیات کو برآمد کرنے اور انہیں اصلی حالت میں لانے کے اقدامات کا آغا ز کیا تھا اور اس مہم کے دوران نئے قلعہ کی اس جگہ جہاں مٹی اور گھانس تھی اسے صاف کئے جانے کے بعد انتہائی خوبصورت حمام اور فوارے کے علاوہ حوض وغیرہ برآمد ہونے لگے ہیں۔ عہدیداروں کے بموجب اس کھدوائی کے بعد نیا قلعہ کو اس کی حقیقی شکل میں واپس لانے کے اقدامات کئے جائیں گے اس سلسلہ میں بہت کام کیا جانا باقی ہے لیکن دوسرے مرحلہ کی کھدوائی کے دوران جو انکشافات ہوئے ہیں وہ انتہائی حوصلہ افزاء ہیں اور ان باقیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کو قابل دید بنانے اور سابقہ حالت میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے جاری ان کاموں کے ذریعہ نیا قلعہ کی خوبصورتی کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں جن کے ذریعہ قلعہ گولکنڈہ ‘ گنبدان قطب شاہی اور اطراف کے علاقوں کو مزید خوبصورت بنانے کے اقدامات ممکن ہیں۔ جناب نجم الدین طاہر سپرنٹنڈنٹ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں جاری ان کاموں کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ برسہا برس سے نظر انداز کردہ قلعہ کے اس حصہ کی صفائی و کھدوائی کے بعد اس خطہ کی اہمیت میں کافی اضافہ ہو گیا ہے اور آثار قدیمہ کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرم تنظیموں سے مشاورت کے بعد نیا قلعہ میں جاری ان ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کیا جائے گا۔ جناب نجم الدین طاہر نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کے اس تاریخی ورثہ کو زمین سے باہر نکالنے کیلئے مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اسی لئے ماہرین کی نگرانی میں یہ کام انجام دیئے جا رہے ہیں اور تاریخی حوالوں کے مطابق کھدائی کے ذریعہ خوبصورت ماضی کو بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گولکنڈہ قلعہ اور گنبدان قطب شاہی کے بعد اس علاقہ میں نیا قلعہ بھی اب سیاحوں کے لئے دلچسپی سے خالی جگہ نہیں رہے گی اور سیاح اس مقام کے مشاہدے کیلئے مجبور ہوجائیں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT