Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / نیا ہندوستان ’کتّے کے پلوں‘ کو مارنے والوں کوکوئی سزا نہیں

نیا ہندوستان ’کتّے کے پلوں‘ کو مارنے والوں کوکوئی سزا نہیں

 

ظفر آغا
راجستھان پولس نے پہلو خان موب لنچنگ معاملے میں ان 6 ملزمین کو ’کلین چٹ‘ دے دی ہے جو اس معاملے میں ملوث تھے۔ اب پہلو خان کے اہل خانہ انصاف کے لیے کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں! محض پہلو خان کے اہل خانہ ہی کیوں، اب پوری مسلم قوم اور دلت جو پچھلے دو تین برسوں کے اندر موب لنچنگ کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں وہ سب کہاں انصاف مانگیں۔ کیونکہ راجستھان میں جس بے رحمی سے پہلو خان کو مارا گیا تھا اور اس کے بعد جس طرح ملزمین کو بری کر دیا گیا اس کے بعد یہ واضح ہے کہ ’گئو رکشکوں‘ کا کہیں کوئی کچھ بگاڑنے والا نہیں ہے، ہر جگہ ’گئو رکشکوں‘ کو ’رکشا‘ ملے گی خواہ وہ قتل ہی کیوں نہ کریں! کیا پہلو خان کے ملزمین کی رہائی کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ’گئو رکھشکوں‘ کے خلاف کبھی کوئی کارروائی ہوگی! کوئی کارروائی تو کیا ان کے خلاف انگلی بھی نہیں اٹھائی جائے گی۔ کیونکہ ’گئو رکشک‘ سنگھ پریوار کا ایک حصہ ہیں اور وہ ہندو راشٹر بنانے میں کارگر ہیں اس لیے آر ایس ایس کے کاندھوں پر سوار بی جے پی حکومت یہ جرأت کیسے کرے کہ وہ ’گئو رکھشکوں‘ کو سزا دے۔پھر ’گئو رکھشک‘ آخر مار کس کو رہے ہیں! گئو رکھشک کسی پہلو خان یا اخلاق یا پھر اونا میں بسے کسی دلت کی ہی تو جان لے رہے ہیں۔ اس ملک میں اور بالخصوص مودی راج میں مسلمان اور دلت کا خون پانی سے بھی زیادہ سستا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ’نیا ہندوستان‘ بنائیں گے۔ آخر ایک نئے ہندوستان کی ضرورت کیا ہے! کیا سنہ 1947 میں آزادی کے بعد سنہ 1950 میں ایک آئین نہیں بنا تھا! سب جانتے ہیں کہ اس آئین کی بنیاد پر ایک نیا ہندوستان قائم ہوا تھا۔

وہ ہندوستان سیکولر ہے اور ملک کے تمام مذاہب کو تسلیم کرنے والے باشندوں کو برابر کا شہری تسلیم کرتا ہے۔جب سنہ 1950 میں نئے ہندوستان کا خد و خال طے کر دیا گیا تو پھر مودی جی کو ایک نئے ہندوستان کی کیا ضرورت پڑ گئی! اس کا جواب نریندر مودی کے سیاسی ماضی اور حال میں مضمر ہے۔ دنیا واقف ہے کہ مودی نہ صرف سنگھ سے منسلک رہے ہیں بلکہ انھوں نے سنگھ کے لیے ہی نہ صرف اپنی ایک رات کی دلہن کو تیاگ دیا تھا بلکہ مودی نے تو آر ایس ایس کی محبت میں اپنا گھر بار سب چھوڑ دیا تھا۔ پھر وہ سیاسی طور پر بی جے پی سے منسلک ہو گئے جس پارٹی نے ان کو آخر سنہ 2014 میں ملک کا اقتدار سونپ دیا جس کے بعد وہ وزیر اعظم بن گئے۔وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز ہونے سے قبل مودی جی 12 برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی گجرات میں سنہ 2002 میں ایسے فسادات ہوئے جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ ان فسادات میں 2000 افراد (جن میں 99 فیصد مسلمان تھے) ایک منظم نسل کشی کے ذریعہ مارے گئے۔ جب ان فساد سے متاثر مسلم پناہ گزینوں نے اپنے گھروں سے بھاگ بھاگ کر دوسری جگہوں پر پناہ لی اور مودی حکومت سے ان پناہ گزینوں سے امداد کی اپیل ہوئی تو مودی جی نے مسلم پناہ گزینوں کو امداد دینے سے انکار کر دیا۔پھر سنہ 2014 میں جب ایک انٹرویو کے دوران مودی سے یہ سوال ہوا کہ سنہ 2002 میں گجرات فسادات میں مارے جانے والے افراد کے سلسلے میں ان کو کوئی افسوس یا ندامت ہے، تو ان کا سیدھا سا جواب تھا ’’جی ہاں، مجھے اتنا ہی افسوس ہے جتنا ایک کار کے نیچے کچلے جانے والے کتّے کے پلّے کی موت پر افسوس ہوتا ہے۔‘‘ یعنی سنگھ نظریات میں پلے بڑھے نریندر مودی کے لیے مسلمان کی حیثیت ایک ’کتّے کے پلّے‘ سے زیادہ نہیں ہے۔بھلا ایسے نریندر مودی کے راج میں پہلو خان کو انصاف کیسے مل سکتا ہے! کیا گجرات میں ذکیہ جعفری اور عشرت جہاں کے اہل خانہ کو انصاف ملا؟ کیا کتوں کے پلّوں کو مارنے والوں کو کوئی سزا ہوتی ہے! نہیں، ہرگز نہیں۔ تو پھر شروع سے ہی یہ واضح تھا کہ پہلو خان اور اخلاق جیسوں کو مارنے والوں کے خلاف پولس کوئی مقدمہ نہیں قائم کرے گی۔کیا پہلو خان اور کیا اخلاق، اب کہیں بھی کوئی اقلیت کا شخص مارا جائے، اس کے مارنے والوں کو سزا نہیں، اگر تمغے دئیے جائیں تو بھی حیرت نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ بھلے ہی آئینی سطح پر اس بات کا اعلان نہ ہوا ہو کہ ہندوستان ایک ’ہندو راشٹر‘ بن چکا ہے، لیکن عملی طور پر اقلیتوں کے خلاف جو منافرت کا ماحول ہے اور پہلو خان جیسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں اس سے یہ واضح ہے کہ اقلیتوں کو اس ملک میں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جا رہا ہے۔

خود اقلیتیں خوف کا شکار ہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر خود کو اس قدر لاچار و مجبور محسوس کر رہی ہیں کہ وہ روہنگیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف تو آواز اٹھا رہی ہیں لیکن خود ہندوستان میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی احتجاج کرنے سے ڈرتی ہیں۔ یعنی ہندوستانی اقلیتیں اب اتنا خائف ہیں کہ وہ اپنے آئینی حقوق کو بطور حق استعمال کرنے سے بھی گریز کر رہی ہیں۔ جب کوئی پوری کی پوری قوم خود اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے تو اس کو نفسیاتی غلامی نہیں تو اور کیا کہا جائے گا۔ یہی سنگھ کا ایجنڈا تھا اور مودی حکومت نے اس ایجنڈے کو اس خوبی سے نافذ کیا ہے کہ اب پہلو خان کے لیے انصاف کی بھی گنجائش نہیں بچی ہے۔لیکن جس طرح ملک کے آئین کو لایعنی بنایا جا رہا ہے وہ محض اس ملک کی اقلیتوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے، یہ تو اب خود اس ملک کی اکثریت کو طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ اس ملک کو ایک ہندو پاکستان بنانا چاہتے ہیں یا پھر ہندوستانی آئین کی بنیاد پر اس ملک کو ایک جدید ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے پہلو خان کے انصاف کی لڑائی اب محض اقلیتوں کے حقوق کی ہی لڑائی نہیں ہے، یہ ہندوستان کے ہندووں کی بھی لڑائی ہے جو ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواہاں ہیں۔ مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ اس ملک کی اکثریت پہلو خان کی لڑائی لڑے گی اور ہندوستان کو سنگھ کے خوابوں کا ہندوستان بنانے سے روکے گی۔

TOPPOPULARRECENT