Thursday , September 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / نیشنل ویمنس باکسنگ : کوچنگ اسٹاف میں مَردوں کا غلبہ

نیشنل ویمنس باکسنگ : کوچنگ اسٹاف میں مَردوں کا غلبہ

جاریہ مقابلوں کی شرکاء 38 ٹیموں سے وابستہ تقریباً 100 کوچیس میں صرف 12 خواتین!
ہردوار ، 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ویمن باکسرز کیلئے نیشنل چمپئن شپ چل رہی ہے لیکن سپورٹ اسٹاف اور ٹیکنیکل ڈیلیگٹس شمار کئے جائیں تو مَردوں کا غلبہ ہے، جنھوں نے باکسنگ رِنگ کے باہر کھیل سے متعلق شعبے میں اپنے خاتون ہم منصب اسٹاف کو بہ اعتبار تعداد بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں جاری چمپئن شپ میں شریک 38 ٹیموں سے وابستہ لگ بھگ 100 کوچیس میں صرف 12 ہی خواتین ہیں۔ اور کامپٹیشن کے انعقاد کی ذمہ داری سنبھالنے والے 40 ریفریز اور ججس میں محض چار ہی خواتین ہیں۔ یہ بہت بڑا تفاوت ہے جو کھلے طور پر نظر آجاتا ہے لیکن باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کا ادعا ہے کہ اس فرق کو گھٹانے کیلئے سنجیدہ کوششیں ہورہی ہیں۔ ٹیکنیکل اسٹاف میں خواتین کی بڑی کمی کے تعلق سے زیادہ تر باکسرز بے پرواہ ہیں۔ ویسے اکثریت کو اتفاق ہے کہ سپورٹ اسٹاف میں خواتین کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے حالانکہ وہ اپنے مرد کوچیس کے ساتھ اچھا تال میل رکھتے ہیں۔ دوسری طرف مرد کوچیس کو یہ اعتراف کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کہ کوچنگ ٹیم میں مزید خواتین ناگزیر ہیں کیونکہ بعض مخصوص اُمور میں انھیں الگ تھلگ ہی رہنا پڑتا ہے۔ انڈیا کے اولین کامن ویلتھ گیمز گولڈ میڈلسٹ اور ریلویز اسپورٹس پروموشن بورڈ (آر ایس پی بی) کوچ محمد علی قمر کا کہنا ہے، ’’بوائز کے مقابل گرلز کو (باکسنگ کی) تربیت دینا زیادہ بڑا چیلنج ہے کیونکہ وہ زیادہ جذباتی ہوتی ہیں۔ ہمیں اُن کی ٹریننگ کے دوران بعض پہلوؤں کو خود اُن ہی پر چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ لڑکوں کے معاملے میں ہم بے فکری سے کام کرسکتے ہیں، لیکن معاملہ جب لڑکیوں؍ خواتین کا ہو تو ہم ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور ہمیں محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ڈروناچاریہ ایوارڈ یافتہ کوچ ساگر مل دھیال جو ویمن باکسرز بشمول ایم سی میریکوم کی تربیت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ مرد اور خاتون کوچیس میں تفاوت یورپ اور امریکا میں بھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT