Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں حکومت کے کردار کی تردید

نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں حکومت کے کردار کی تردید

مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کے بیانات
نئی دہلی 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی کے لئے کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہاکہ حکومت کا نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں کوئی کردار نہیں ہے جس کے سلسلہ میں سونیا گاندھی اور اُن کے فرزند کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے پارلیمنٹ کے باہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اُنھیں مقدمہ عدالت میں لڑنا چاہئے، حکومت کو کیسے ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی اور غیر ذمہ داری ہے کہ اِس کے لئے حکومت کو مورد الزام قرار دیا جائے کیوں کہ وہ حقیقت کا سامنا نہیں کرسکتے۔ وہ حکومت پر الزام عائد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ مقدمہ پر اُلجھن زدہ کانگریس ارکان نے آج پارلیمنٹ کی کارروائی کو مفلوج کردیا جس کے نتیجہ میں لوک سبھا و راجیہ سبھا کے اجلاس ملتوی کردیئے گئے۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ یہ مکمل طور پر غیراخلاقی، بیجا اور غیر جمہوری ہے کہ کانگریس پارٹی پارلیمنٹ کی کارروائی کو اِس مقدمہ کی وجہ سے روکنے کی کوشش کررہی ہے جو عدلیہ کی جانب سے شروع کیا گیا ہے اور اِس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ وینکیا نائیڈو نے مبینہ طور پر دہلی کی عدالت میں ایک فوجداری شکایت کو مسترد کردینے کا حوالہ بھی دیا

جس میں مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ عدالت کا احساس کیا تھا۔ عدالت نے درخواست کو یکسر مسترد کردیا۔ کانگریس نے بھی عدم رواداری کا مسئلہ اُٹھایا ہے لیکن یہ مسئلہ اُسی پر اُلٹ گیا۔ وہ بے نقاب ہوگئے، نیپال کے مسئلہ کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل مناسب جواب دے دیا ہے۔ ہمیں ایسے بڑے مسائل پر جن سے قومی مفاد وابستہ ہے، سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ خاص طور پر جب کہ اِن مسائل کا تعلق بیرونی ممالک سے تعلقات سے ہو، ہمیں متفقہ طور پر رائے ظاہر کرنی چاہئے۔ کانگریس کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ عدالتی کارروائی بالکل ٹھوس ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کانگریس سیاسی مقاصد کے لئے مالیہ حاصل کرتی ہے اور ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرتی ہے لیکن بعدازاں یہ مالیہ ایک ٹرسٹ کو اور اُس کے بعد ایک کمپنی کو منتقل کردیا جاتا ہے جو اُن سے قریبی روابط رکھتی ہے۔یہ کمپنی آج جائیدادوں کی مالک ہے۔ کافی کرایے حاصل کررہی ہے۔ سیاسی سرگرمی کے لئے حاصل کردہ رقومات تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT