Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں کانگریس پارلیمنٹ میں زبردست احتجاج

نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں کانگریس پارلیمنٹ میں زبردست احتجاج

لوک سبھا و راجیہ سبھا کی کارروائی مفلوج ۔ سونیا اور راہول گاندھی کا حکومت پر سیاسی انتقام پر عمل پیرا ہونے کا الزام
نئی دہلی 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی نے آج جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے مودی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ ’سیاسی انتقام‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اُن کے خلاف نیشنل ہیرالڈ مقدمہ دائر کرچکی ہے۔ جبکہ کانگریس نے الزامات عائد کئے کہ ایسے مقدمات دائر کرکے بی جے پی ’کانگریس سے پاک‘ ہندوستان تشکیل دینا چاہتی ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے ایک دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے سونیا اور راہول کو 19 ڈسمبر کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ دریں اثنا پارلیمنٹ میں آج کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ کانگریس ارکان نے جارحانہ تیور والی سونیا گاندھی کی زیرقیادت بار بار لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی میں خلل اندازی کرکے حکومت پر سیاسی انتقام کی پالیسی پر عمل کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس ارکان پورے اجلاس کے دوران ایوان کے وسط میں کھڑے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ جبکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے صدورنشین اُن سے بار بار درخواست کرتے رہے کہ وہ احتجاج کا حق رکھتے ہیں لیکن اسکا یہ طریقہ نہیں ہے۔ حکومت نے کہاکہ اُس کا احساس ہے کہ کانگریس نیشنل ہیرالڈ مقدمہ پر شوروغل مچارہی ہے حالانکہ سونیا اور راہول کو عدالت نے طلب کیا ہے حکومت نے نہیں۔ دونوں قائدین کو عدالت میں اپنا مقدمہ لڑنا چاہئے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی آج دن کیلئے جیسے ہی شروع ہوئی کانگریسی ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے۔ لوک سبھا میں کانگریس احتجاج میں ترنمول کانگریس شامل ہوگئی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ارکان سے نشستوں پر واپس ہوجانے کی درخواست کرتے ہوئے وقفۂ سوالات کا آغاز کیا لیکن ارکان نشستوں پر واپس نہیں گئے جسکی وجہ سے اسپیکر نے اجلاس آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کردیا۔

جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو شوروغل دوبارہ شروع ہوگیا۔ ترنمول کانگریس قائد سدیپ بنڈو پادھیائے نے ملکارجن کھرگے کی توجہ اسپیکر کی جانب مبذول کروانے کی کوشش کی لیکن سونیا گاندھی نے اُن کو جواب دیتے ہوئے کچھ اشارہ لیکن شوروغل کی وجہ سے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ صدر کانگریس نے اپنے پارٹی ارکان اور دیگر حامی پارٹیوں کے ارکان جیسے ترنمول کانگریس اور اے اے پی کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور راجیو پرتاب روڈی نے احتجاجی کانگریسی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیاکہ ایک دن میں ایسا کیا ہوگا جس کی وجہ سے کانگریس دہل کر رہ گئی۔ شوروغل جاری رہنے پر اسپیکر نے لوک سبھا کا اجلاس پہلے 12 بجے تک اور پھر دو بجے تک ملتوی کردیا۔ اس کے بعد بھی جب اجلاس کا آغاز ہوا تو کانگریس ارکان نے سونیا گاندھی کی زیرقیادت احتجاج جاری رکھا۔ ڈپٹی اسپیکر تمبی دورائی چاہتے تھے کہ ملک میں خشک سالی کی صورتحال پر مباحث شروع کئے جائیں۔ چنانچہ انھوں نے کانگریس ارکان سے درخواست کی کہ ایسا کرنے کا موقع دیا جائے۔ لیکن شوروغل کے دوران کچھ بھی سنائی نہیں دیا جاسکا۔آخرکار اجلاس کل تک ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT