Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / نیلو فر ہاسپٹل کے اندرون و بیرون حصوں میں صفائی کا ناقص انتظام

نیلو فر ہاسپٹل کے اندرون و بیرون حصوں میں صفائی کا ناقص انتظام

ایک مرض کے علاج پر کئی امراض کا لاحق ہونا یقینی ، دواخانہ کی ابتر صورتحال ، عوامی نمائندے خواب غفلت میں
حیدرآباد۔12 اگسٹ ( سیاست نیوز ) صاحب یہ دواخانہ بھی آپ کی توجہ کا طلبگار ہے…۔ نامپلی کے علاقہ میں موجود نیلوفر دواخانہ برائے اطفال کی صورتحال کچھ اس طرح ہو چکی ہے کہ ایک بیماری کا علاج کروانے پہنچنے والے دیگر کئی امراض میں مبتلاء ہو رہے ہیں۔ دونوں شہروں میں معروف بچوں کے اس دواخانہ میں کچہرے کے انبار اور گندگی کا ماحول مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے اور دواخانہ کی جانب سے صحتمند ماحول فراہم کرنے کے بجائے انہیں متعدد موذی بیماریوں کا شکاربنانے والا ماحول دیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ نیلوفر دوخانہ کے بیرونی حصہ میں ہی نہیں بلکہ اندرونی حصہ میں بھی صفائی کے ناقص انتظامات حالات کو ابتر بنائے ہوئے ہیں لیکن محکمہ کی جانب سے برتی جانے والی لا پرواہی اور دواخانہ کی صورتحال کو نظرانداز کرنے کے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دواخانہ کی حالت کو بہتر بنانے سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں لیکن عوامی نمائندے کس حد تک اپنے علاقہ میں موجود سرکاری دواخانوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا اندازہ نیلوفر ہاسپٹل کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے لگایا جا سکتا ہے۔ نیلوفر دواخانہ جب کبھی بچوں سے متعلق وبائی امراض پھیلتے ہیں تو سرخیوں میں رہتا ہے لیکن اس کے بعد پھر سے اس دواخانہ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ دواخانہ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد سے پریشان ہیں کیونکہ آئے دن مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے لیکن وہ مریض کو داخلہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے جس کی اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریض انتہائی تشویشناک حالت میں رجوع ہوتے ہیں جنہیں دوسرے دواخانہ سے رجوع کرنا بھی دشوار کن ہوتا ہے۔ نیلوفر دواخانہ میں روزانہ 1000تا1200 مریضوں کا آؤٹ پیشنٹ کی حیثیت سے علاج کیا جاتا ہے جبکہ 600تا800 مریضوں کو زیر علاج رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ دواخانہ میں صرف500بستروں کی گنجائش ہے۔ ماہرین اطفال جو اس قدیم معروف دواخانہ میںخدمات انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ خانگی دواخانوں میں علاج کروانے کے بعد اس دواخانہ سے بچوں کو رجوع کیا جاتا ہے جو کہ ان کے لئے تکلیف دہ ہے لیکن انسانی بنیادوں اور پیشہ کے تقدس کے باعث وہ علاج سے منہ نہیں پھیر سکتے۔ دواخانہ کے اطراف و اکناف گندگی کے متعلق متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود حالات کو بہتر نہ بنائے جانے سے صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے لیکن اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ نیلوفر ہاسپٹل میں آئی سی یو کی ضرورت کے متعلق کئی مرتبہ حکومت کو متوجہ کروایا گیا لیکن اس مسئلہ پر بھی نامپلی میں موجود اس دواخانہ کیلئے مثبت نمائندگی نہیں ہو پائی۔ فی الحال دواخانہ میں 6وارڈس برائے اطفال موجود ہیں جن میں 240بستر ہیں اور 180جنرل بستر موجود ہیں علاوہ ازیں 60ایمرجنسی بستر موجود ہیں لیکن اس کے باوجود دواخانہ میں گنجائش کی کمی مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ حالیہ عرصہ میں دواخانہ سے رجوع ہونے والوں نے بتایا کہ مریضوں کے رشتہ داروں کیلئے دواخانہ میں کوئی سہولت نہ ہونے کے سبب حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہو چکی ہے۔ شہزادی نیلوفر کی جانب سے 1953میں قائم کئے گئے اس دواخانہ میں ریاست کے مایہ ناز ماہرین اطفال خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن وہ خود بھی سہولتوں کی عدم موجودگی سے پریشان ہیں۔ دواخانہ کی نئی عمارت اور قدیم عمارت کے قریب کچہرے کے انبار مریضوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہیں لیکن اس کے باوجود صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا جو کہ بلدیہ کی لا پرواہی کا ثبوت ہے۔ نیلوفر دواخانہ سے قریب آندھرا پردیش فارنسک لیاب سے متصل کچہرا کنڈی اس جگہ سے منتقل کرنے کے لئے متعدد مرتبہ توجہ دلوائی گئی کیونکہ اس کچہرے کے انبار سے جو بدبو و تعفن پیدا ہوتا ہے وہ بھی تکلیف کا باعث ہے۔ دواخانہ کی موجودہ حالت بیان کرتے ہوئے ایک مریض کے رشتہ دار نے بتایا کہ جو مریض دواخانہ میں شریک ہے اس کے علاج کی تکمیل تک رہائش پذیر رشتہ دار کا بیمار ہونا یقینی ہو چکا ہے ۔ حلقۂ اسمبلی نامپلی میں موجود ریاست بھر میں معروف اس دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کا تعلق صرف شہر سے نہیں ہے بلکہ ریاست کے تمام اضلاع کے علاوہ پڑوسی ریاست مہاراشٹرا و کرناٹک سے بھی مریض اس دوا خانہ سے بغرض علاج رجوع ہوتے ہیں۔ شہر کے مرکزی مقام پر موجود اس دواخانہ میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے اعلانات ڈاکٹر وائی۔ایس راج شیکھر ریڈی کے علاوہ ڈاکٹر کے روشیا اور مسٹر کرن کمار ریڈی کے دور حکومت میں بھی کئے گئے تھے لیکن عمل آوری کچھ حد تک ہی ممکن ہو پائی۔ دواخانہ کے ذمہ دار اب یہ کہہ رہے ہیں کہ صاحب! یہ دواخانہ بھی نامپلی میں ہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT