Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / نیٹ ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی تجویز

نیٹ ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی تجویز

سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل آوری روکنے آرڈیننس جاری کرنے کا امکان
نئی دہلی۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں ملک گیر سطح پر یکساں ٹسٹ NEET کے انعقاد سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامہ پر عمل آوری ایک سال کیلئے موخر کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت آرڈیننس جاری کرنے پر غور کررہی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر 12 ماہ تک عمل آوری کرنے کیلئے آرڈیننس جاری کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں ہنوز قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کے ایک گوشہ کا یہ احساس ہے کہ آرڈیننس جاری کیا جانا چاہئے، لیکن یہ بھی واضح نہیں ہوپارہا ہے کہ صرف آرڈیننس جاری کرنا کافی ہوگا؟ یا پھر حکومت کو نیا قانون متعارف کرنا ہوگا۔ کابینہ کا اجلاس کل صبح منعقد ہورہا ہے تاہم اس مسئلہ کو ایجنڈہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ کئی بڑی سیاسی جماعتوں اور بعض ریاستوں نے عدالت کے فیصلہ پر عمل آوری ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی حمایت کی ہے۔ مرکز نے کل اس مسئلہ پر مشاورت کا آغاز کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ انتہائی اہم اور عاملہ کا مسئلہ ہے۔ کئی ریاستی حکومتیں چاہتی ہیں کہ اس سال بھی ان کے 85% کوٹہ نشستوں کو ریاستی امتحانات کی بنیاد پر داخلوں کے ذریعہ پُر کیا جائے۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے تاہم واضح کیا کہ خانگی میڈیکل کالجس اور ڈیمڈ یونیورسٹیز اپنا علیحدہ انٹرنس ٹسٹ منعقد نہیں کرسکتی اور انہیں نیٹ کے ذریعہ ہی داخلے دینا ہوگا۔ کُل جماعتی اجلاس اور ریاستی وزرائے صحت سے مشاورت کا آغاز اِن اطلاعات کے دوران ہوا کہ مرکز آرڈیننس جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جاریہ سال نیٹ کو لازمی قرار دینے کے فیصلہ کو ایک سال کیلئے ملتوی کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT