Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / نیٹ میں شریک لڑکی کو ڈریس کوڈ کے نام پر ’ہراسانی‘

نیٹ میں شریک لڑکی کو ڈریس کوڈ کے نام پر ’ہراسانی‘

بَرا نکال کر امتحان دینے پر مجبور کیا گیا ۔ لڑکیوں و لڑکوں کے فُل آستین کاٹ دیئے گئے
تھرواننتا پورم ، 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک صدمہ انگیز واقعہ میں نیٹ امتحان کیلئے کنور کے ایک مرکز میں شریک ایک لڑکی کو مبینہ طور پر اُس کے اِنویجلیٹر نے سی بی ایس ای ڈریس کوڈ کی تعمیل کے نام پر اسے اپنا اوپر کے حصہ کا اندرونی کپڑا بدن سے نکالنے کیلئے کہا۔ 19 سالہ امیدوارہ جو کنور کے پریارم کے سنٹر میں گزشتہ روز منعقدہ امتحان میں شریک ہوئی، اُس کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو امتحان لکھنے سے قبل اپنا اوپر کا اندرونی کپڑا نکالنے کیلئے کہا گیا۔ لڑکی کی ماں نے کہا، ’’میری بیٹی اگزام سنٹر میں داخل ہونے کے بعد باہر آئی اور اپنا بَرا (چولی) میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اسے سی بی ایس ای ڈریس کوڈ کے مطابق اسے نکال دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ نگران امتحان نے میٹل ڈیٹکٹر سے انتباہی آواز آنے کے بعد ان کی بیٹی کو ایسا کرنے کی ہدایت دی۔ ظاہر طور پر یہی سمجھ آیا کہ چولی میں موجود دھاتی کانٹے کی وجہ سے الارم بج گیا۔ کنور ڈسٹرکٹ پولیس سربراہ جی شیوا وکرم نے کہا کہ اگر والدین یا وہ لڑکی شکایت درج کرائے تو کیس درج رجسٹر کیا جائے گا۔ ابھی تک کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی ہے۔ اسپیشل برانچ سے اس واقعہ کا جائزہ لینے کیلئے کہا گیا ہے۔ کیرالا ویمنس کمیشن نے اس واقعہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنل ایلجبلٹی کم انٹرنس ٹسٹ یا NEET-UG ایسے تمام اسٹوڈنٹس کیلئے داخلہ امتحان ہے جو ملک میں کوئی بھی گرائجویٹ میڈیکل کورس پڑھنے کے خواہش مند ہیں۔ ریاست میں مختلف مراکز سے بھی ایسے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں کہ لڑکیوں سے ان کے ہیڈاسکارف نکال دینے کیلئے کہا گیا اور لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے فُل آستین کاٹ دیئے گئے۔ یہ مسئلہ ریاستی اسمبلی میں اٹھایا گیا، جس کا سیشن جاری ہے، جہاں وزیر تعلیم سی ریویندرناتھ نے کہا کہ حکومت اس معاملہ کا جائزہ لے گی۔ تاہم ریاستی محکمہ تعلیم کے ذرائع نے کہا کہ ریاست کا نیٹ امتحان کے انعقاد میں کوئی رول نہیں۔

TOPPOPULARRECENT