Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / نیٹ ڈریس کوڈ معاملہ میں چار ٹیچرس معطل

نیٹ ڈریس کوڈ معاملہ میں چار ٹیچرس معطل

داخلہ امتحان کیلئے امیدوارہ کو بَرا نکالنے پر مجبور کرنا حد سے زائد چوکسی : سی بی ایس سی
کنور ؍ نئی دہلی ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چار ٹیچرس کو آج معطل کردیا گیا اور انکوائری جاری رہے گی کہ انہوں نے مبینہ طور پر اسٹوڈنٹس کو نیشنل میڈیکل انٹرنس ایگزامنیشن منعقدہ اتوار کو نقل نویسی روکنے کیلئے انہیں اپنے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا جس میں اندرونی کپڑے شامل ہیں۔ پرنسپال ٹسک انگلش میڈیم اسکول جمال الدین نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ چار خاتون ٹیچرس کو انکوائری کی تکمیل تک معطل کردیا گیا ہے حالانکہ ابھی انہیں کوئی باقاعدہ شکایت وصول نہیں ہوئی ہے۔ ضلع کنور میں نیٹ کے انعقاد کیلئے یہ اسکول بھی سنٹر بنایا گیا ہے۔ صدمہ انگیز واقعہ میں امتحان کے موقع پر ایک اسٹوڈنٹ کو ٹسٹ میں شرکت کیلئے اجازت دینے سے قبل اس کا برا (چولی) نکالنے پر مجبور کیا گیا جبکہ ایک اور لڑکی کو اس کے جینس تبدیل کرنے پڑے کیونکہ اس میں دھاتی بٹن والے پاکٹس تھے۔ یہ مسئلہ آج کیرالا اسمبلی میں اٹھایا گیا جہاں سرکاری اور اپوزیشن بنچوں نے اس طرح کے واقعات کی مذمت کی۔ اس مسئلہ پر ایوان کے ارکان کی ظاہر کردہ فکرمندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر پی وجین نے کہا کہ وہ اس معاملہ کو مرکز کے علم میں لائیں گے اور پولیس سے ان واقعات کا جائزہ لینے کیلئے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ کو اس کے اندرونی کپڑے نکالنے پر مجبور کرنے والے واقعہ کا کیس درج رجسٹر ہونے کے بعد قانونی طور پر جائزہ لیا جائے گا۔ ایک خاتون پولیس عہدیدار کو اس اسٹوڈنٹ اور اس کے والدین سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس دوران سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے آج کہا کہ کیرالا میں نیٹ امیدوارہ کو انتہائی مرکز پر اپنے اندرونی کپڑے نکالنے پر مجبور کرنے سے متعلق بدبختانہ واقعہ حد سے زیادہ اور احمقانہ چوکسی کا نتیجہ ہے۔ سی بی ایس سی نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس میں داخلہ کیلئے نیٹ کا انعقاد عمل میں لایا ہے۔ اس نے سخت ڈریس کوڈ کی مدافعت ضرور کی جو اعلیٰ معیاری ا متحان کے معیار کو برقرار رکھنے کے مقصد سے لاگو کیا گیا۔ سی بی ایس سی نے پرنسپال کو طالبات سے معذرت خواہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT