Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’نیٹ‘‘ کے نتائج پر حکم التواء سے طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش

’’نیٹ‘‘ کے نتائج پر حکم التواء سے طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش

قیمتی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ، ایمسیٹ اور بمسیٹ پر بھی اثر پڑے گا ، شیڈول تبدیل کرنا ضروری
حیدرآباد۔25مئی (سیاست نیوز)ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ کے خواہشمند طلباء و طالبات NEETکے نتائج پر مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے روک لگائے جانے اور سپریم کورٹ کے عاجلانہ سماعت کیلئے مقدمہ کو قبول نہ کئے جانے کے بعد تشویش میں مبتلاء ہو چکے ہیں۔ NEET-2017کے امتحانات کے دوران علاقائی زبانو ںاور انگریزی زبان کے علحدہ پرچوں پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہونے پر مدراس ہائی کورٹ نے NEETکے نتائج کی اجرائی پر روک لگانے کے احکام جاری کردیئے ہیں اور ان احکامات کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی درخواست کو عدلیہ نے سماعت کے لئے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ عجلت کا نہیں ہے اور مدراس ہائی کورٹ میں مقدمہ زیر دوراں ہے ۔NEET کے نتائج روکنے کے منفی اثرات ریاست تلنگانہ میں منعقد ہونے والے ایمسیٹ کے نتائج کے علاوہ داخلوں پر بھی مرتب ہوں گے اور اس صورتحال کے سبب کئی طلبہ کا مستقبل تاریک ہونے کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ NEETکے نتائج کے اجرائی کے بعد طلبہ اپنے موقف کی جانچ اور نتائج سے آگہی حاصل کرتے ہوئے ایمسیٹ کونسلنگ یا ڈگری کالجس میں داخلہ حاصل کر سکتے تھے لیکن اب ریاستی حکومت کو ایمسیٹ کی کونسلنگ کے لئے تواریخ میں تبدیلی لانی ہوگی اور داخلوں کیلئے طلبہ کو سہولت کی فراہمی کے انتظامات کئے جانے پڑیں گے۔ایمسیٹ کونسلنگ کی تواریخ کو NEETکے نتائج کے بعد رکھنے کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں کئی طلبہ جو ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس میں داخلہ کے خواہشمند ہیں ان کاسال ضائع ہوجائے گا۔ریاست تلنگانہ کے وہ امیدوار جو ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس میں داخلہ کے لئے توقع کئے ہوئے ہیں اور اگر انہیں توقع کے برخلاف نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسی صورت میں وہ ڈگری میں بھی داخلہ حاصل کرنے سے قاصر رہیں گے کیونکہ ڈگری میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے اور بتاجاتا ہے کہ NEET کے نتائج سے قبل ہی ڈگری میں داخلوں کا عمل بند ہوجائے گا۔ NEETلکھنے والے طلبہ کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ طریقہ کار حکومت کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے لیکن اس کا شکار نوجوان بن رہے ہیںاور موجودہ حالات میں حکومت کو فوری ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ عدالت کی جانب سے نتائج کو روک دیئے جانے کے احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی نوجوان تناؤ کا شکار بننے لگے ہیں ۔ سال گذشتہ بھی NEET کے انعقاد میں کی جانے والی بے قاعدگیوں کے سبب طلبہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس مرتبہ معمول کے مطابق امتحان منعقد ہونے کے باوجود مسائل کا پیدا کیا جانا ناقابل فہم ہے۔ ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے سرپرستوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدالت میں دائر کردہ مقدمات کی مکمل اعلی سطحی تحقیقات کروائی جائیں کیونکہاس بات کا خدشہ ہے کہ اس صورتحال کو پیدا کرنے کے پس پردہ خانگی کالج انتظامیہ ہیں کیونکہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں میڈیکل میں داخلوں کے لئے لاکھوں روپئے نہیں بلکہ اب کروڑوں روپئے وصول کئے جا نے لگے ہیں لیکن NEET کے ذریعہ داخلوں کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صور ت میں کالجس جو بدعنوانیو ںکے ذریعہ نشستیں فروخت کیا کرتے تھے ایسا نہیں کر پائیں گے۔اسی لئے سرپرست اور طلبہ میں اس بات کے شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ NEETکو عدالتی رسہ کشی کا شکار بناتے ہوئے ایک سازش کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT