Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / نیپال۔ چین معاہدات پر ہندوستان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

نیپال۔ چین معاہدات پر ہندوستان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ہمارا اولین مقصد، حکمراں سی پی این یو ایم ایل پارٹی لیڈر کا بیان

کھٹمنڈو ۔ 25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نیپال کی حکمراں پارٹی سی پی این یو این ایل کے سینئر لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ نیپال کے توسیع پسندانہ تعلقات سے ہندوستان کو مایوس یا فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیپال کسی کے ساتھ بھی دشمنی یا ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔ پارٹی کے سنٹر کمیٹی رکن پردیپ گاولے نے کہا کہ ہم دونوں ممالک (ہندوستان اور چین) کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے ساتھ مساوات کی بنیاد پر یہ تعلقات برقرار رہیں گے۔ اس پر کسی بھی ملک کو مایوس یا فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بحیثیت آزاد اور خودمختار ملک نیپال کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ اسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات استوار رکھنا چاہئے۔ ہم اس ملک کے ساتھ اچھے روابط رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارا اختیار ہے اور ہم کسی کے ساتھ بھی دشمنی مول نہیں لیں گے۔

حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (مارکسسٹ لیننسٹ) نے چین کے ساتھ نیپال کے معاہدات پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نیپال کے پی شرما اولی کے جاریہ دورہ کے دوران چین کے ساتھ یہ معاہدے ہوئے ہیں۔ اس باہمی تعاون کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان سماجی اور معاشی ترقی کو طویل مدت تک وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ نیپال کی ترقی کیلئے ایسے معاہدے ضروری ہیں۔ ان معاہدوں سے نیپال کی تجارت کو ایک نئی جہت عطا ہوگی اور حکمراں پارٹی کا کہنا ہیکہ ان معاہدوں کو تیزی سے روبہ عمل لایا جانا چاہئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی معاہدے ہوئے ہیں جن میں تجارت کو فروغ دینا سرحد پار سے رابطہ کاری کو مضبوط بنانا، انفراسٹرکچر، ڈیولپمنٹ، سرمایہ کاری، تعمیرنو، توانائی، سیاحت اور تجارت کو ترقی دینے سے نیپال کی معاشی اور سماجی ترقی دینے میں غیرمعمولی طویل مدتی تبدیلی آئے گی۔ وزیراعظم نیپال 20 مارچ سے چین کے دورہ پر ہیں اور دونوں ملکوں نے ریل رابطہ اور ٹرانزٹ معاہدہ کے بشمول 10 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم نیپال نے اپنے چینی ہم منصب لی کی گانگ کے ساتھ بات چیت کے دوران ان معاہدوں کو قطعیت دی۔ باہمی سرحدی معاہدہ سے ہندوستان پر نیپال کا انحصار ختم ہوجائے گا اور چین کے ساتھ تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ اب تک کولکتہ کی بندرگاہ سے نیپال کی اشیاء کی درآمدات برآمدات عمل میں آتی تھی۔ اب نیپال اپنی اشیاء کو تبت کے ذریعہ ہمالیائی راستہ سے سربراہ کرسکتا ہے۔ اسی دوران فیڈرل سوشلسٹ فورم نیپال کے صدر اوپیندرا یادو نے کہا کہ نیپال میں نئے دستور سازی پر چین کی جانب سے خیرمقدم کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT