Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / نیپال میںکسی بھی سیاسی گروپ کو تائیدکی تردید

نیپال میںکسی بھی سیاسی گروپ کو تائیدکی تردید

نیپال ہندوستان کیلئے انتہائی اہم‘ہندوستان کے سفیر برائے نیپال رنجیت رائے کا بیان
کٹھمنڈو۔27مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ہند۔ نیپال تعلقات میں کئی نشیب و فراز دیکھے گئے ہیں ‘ جب کہ مادھیسیوں نے نئے دستور کی مخالفت میں احتجاج کیا تھا ۔ یہ ایک ’’ غلط مفروضے ‘‘ پر مبنی رجحان قرار دیا گیا تھا اور نیپال میں کسی بھی سیاسی گروپ کو ہندوستان کی تائید سے انکار کردیا گیا ہے ۔ہندوستان کے سفیر برائے نیپال رنجیت رائے نے کہا کہ ہندوستان کی پالیسی پورے نیپال کے لئے ہے کسی ایک ایک سیاسی گروپ کے لئے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے کہ ہندوستان کسی ایک گروپ کی تائید کرتا ہے۔ پریس کانفرنس میں اُن سے سوال کیا گیا تھا کہ ہندوستان کا مادھیسی کے بارے میں ہندوستان کا کیا موقف ہے ۔ مادھیسیوں نے ملک کے نئے دستور کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کئے تھے ۔ ان کی اکثریت ترائی کے علاقہ میں مقیم ہے جو ہندوستان کی سرحد سے متصل ہے ۔ گذشتہ سال 4 ماہ طویل احتجاج میں مادھیسیوں نے عملی اعتبار سے اس چاروں طرف سے زمین گھرے ہوئے ملک کی تمام سرگرمیوں کو مفلوج کردیا تھا ۔ تشدد کے یکادکا واقعات بھی پیش آئے تھے ۔ ہند۔نیپال سرحد سے تجارتی راستوں پر ناکہ بندی کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی سربراہی بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ نیپال نے ہندوستان پر الزام عائدک یا تھا کہ وہ مادھیسیوں کی تائیدکرتے ہوئے نیپال کی نیابتی ناکہ بندی مسلط کررہا ہے ۔ ہندوستان اورنیپال کا ایک طویل اور ہمہ جہتی پہلووالے راوبط ہیں جن میں نشیب و فراز بھی آتے رہے ہیں ۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ ڈھائی سال کے عرصہ میں نیپال کے دو دورے کئے ہیں ۔ اس سے اُس اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے جو ہندوستان نیپال کو دیتا ہے ۔ ہندوستان کے سفیر نے باہمی تعلقات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی صحافیوں کا ایک وفد نیپال کا دورہ کر کے مقامی افراد سے تبادلہ خیال کرچکا ہے ‘ وہ ایک سیاحتی تقریب کے سلسلہ میں جس کا اہتمام سرکاری زیر انتظام نیپال ایئرلائنز اور کے جی ایچ گروپ آف ہوٹلس نے کیا تھا ۔ نیپال کے دورہ پر آئے تھے ‘ ان مسائل کے بارے میںجو مادھیسیوں نے اٹھائے ہے رائے نے کہاکہ ہم پہلے ہی دو ترمیمات کا جو حکومت نیپال نے دستور میں کی ہے‘خیرمقدم کرچکے ہیں ۔
یہ ترمیمات جنوری میں کی گئی تھیں اور ان کا تعلق متناسب اور سب کو ساتھ لیکر نمائندگی کرنے سے ہے ۔ ان میں نظرانداز کردہ طبقات بھی بشمول مادھیسی شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT