Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / نیپال میں دستور سازی کی تکمیل تک عوام کو پرامن رہنے امریکہ کی اپیل

نیپال میں دستور سازی کی تکمیل تک عوام کو پرامن رہنے امریکہ کی اپیل

Hindu activists march forward while trying to break through a restricted area near the parliament during a protest rally demanding Nepal to be declared as a Hindu state in the new constitution, in Kathmandu, Nepal September 14, 2015. REUTERS/Navesh Chitrakar

٭    ایک سیکولر ملک ہی عوام کو خوشحال بناتے ہوئے مستحکم رہ سکتا ہے : امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ
٭    601 رکنی اسمبلی میں دوتہائی قانون سازوں نے ہندو مملکت کی تجویز مسترد کردی
واشنگٹن ۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج نیپالی عوام سے خواہش کی ہیکہ ملک میں جس نئے دستور کی تشکیل کی جارہی ہے اس کے خلاف پرتشدد احتجاج نہ کیا جائے تو ملک کے حق میں بہتر ہوگا۔ کسی بھی ملک کا دستور ملک کی عوام کی بھلائی کیلئے ہی تشکیل دیا جاتا ہے لہٰذا اس عمل کی تکمیل تک پرامن رہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ترجمان جان کربی نے کہاکہ فی الحال نیپال میں دستور سازی کیلئے ووٹنگ کا جو عمل جاری ہے اس میں عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خوشحال نیپال کی داغ بیل ڈالی جائے گی۔ یاد رہے کہ نیپال کو ایک ہندو مملکت قرار دیئے جانے کی تجویز کو کل مسترد کردیا گیا تھا اور ملک کو ایک ہندو اکثریت والے سیکولر ملک کی حیثیت حاصل رہے گی جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج شروع ہوگیا تھا۔ دریں اثناء اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسٹر کربی نے کہا کہ ملک کا دستور اس نوعیت کا ہونا چاہئے جہاں عوام کو اپنے بنیادی حقوق جیسے صنفی مساوات اور اظہارخیال کی آزادی سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے لہٰذا اب یہ نیپالی عوام کا فرض ہے کہ وہ دستورسازی کے عمل کی تکمیل تک پرامن رہیں ونہ صورتحال بگڑنے پر ارباب اقتدار کے پاس سیکوریٹی فورسیس کو طلب کرنے کے سوائے کوئی متبادل نہ ہوگا۔

امریکہ فی الحال نیپال کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے جہاں اب دستورسازی کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ نیپال میں سیکولرازم کا بول بالا ہو اور ملک معاشی طور پر مستحکم ہوجائے۔ نیپال کو جمہوریت کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ آج جو بھی ملک جمہوریت پر عمل کررہا ہے، وہاں ترقی ہی ترقی ہے لیکن جہاں بادشاہت، کمیونزم اور فوجی حکومت ہے، وہاں عوام کو اپنی بنیادی سہولتوں سے بھی کبھی کبھی محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ نیپال کی 601 رکنی اسمبلی میں دوتہائی قانون سازوں نے ہندو حامی راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی ۔ نیپال (RPP-N) کے اس مطالبہ کو یکسر مسترد کردیا جہاں نیپال کے دستور میں ترمیم کرتے ہوئے اسے ہندو مملکت بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قانون سازوں نے نیپال کو سیکولر ملک بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا کیونکہ اس کے دو بڑے پڑوسی ممالک ہندوستان اور پاکستان سیکولر ممالک ہیں اور وہاں جمہوری نظام رائج ہے۔ نیپال کو 2008ء میں سیکولر مملکت کا موقف پارلیمنٹ کے ڈکلیریشن کے بعد حاصل ہوا تھا کیونکہ عوامی تحریک نے نیپال میں بادشاہت کا خاتمہ کردیا تھا۔ آج دنیا میں جہاں جہاں بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ ہے وہاں کے عوامی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کئی ممالک میں تو انقلاب آ گیا۔ لہٰذا اس صورتحال میں نیپال کو اگر ایک جمہوری یا سیکولر ملک قرار دیا جاتا ہے تو یہ خود نیپال اور اس کے قائدین کے علاوہ نیپالی عوام کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

 

نیپال کے نئے دستور کا 20 ستمبر کو اعلان: وزیرخارجہ نیپال
کٹھمنڈو ۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) 7 سال کی سخت محنت اور مباحث کے بعد حکومت نیپال نے آج کہا کہ نئے دستور کی نقاب کشائی 30 ستمبر کو ہوگی۔ یہ دستور مکمل طور پر جمہوری اور سیکولر ہوگا حالانکہ اقلیتی گروپس کی جانب سے مجوزہ وفاقی ڈھانچہ کے خلاف خونریز احتجاج جاری ہے۔ دستورساز اسمبلی پہلے ہی فقرہ بہ فقرہ رائے دہی مجوزہ دستور کے سلسلہ میں کرواچکی ہے جو 2008ء سے تیاری کے مرحلہ میں تھا۔ اس دستور میں اب 176 دفعات ہیں، جن کو 601 رکنی دستور ساز اسمبلی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ دستور کی 20 ستمبر کو نقاب کشائی کی منظوری بھی حاصل ہوچکی ہے۔ وزیرخارجہ نیپال مہندر بہادر پانڈے نے آج اس کا انکشاف کیا اور کہا کہ صد رنیپال رام برن یادو ایک خصوصی تقریب میں اس کی نقاب کشائی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT