Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / نیپال میں سب کی نمائندگی والے دستور کے نفاذ پر زور

نیپال میں سب کی نمائندگی والے دستور کے نفاذ پر زور

وزیر اعظم نریندر مودی کی نیپالی ہم منصب پراچندہ سے بات چیت ۔ تین معاہدات پر دستخط
نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایسے وقت میں جبکہ نیپال میں سیاسی تبدیلیوں کا دور چل رہا ہے ہندوستان نے آج کہا کہ اس ملک میں ایسا دستور نافذ کیا جانا چاہئے جو سماج کے تمام طبقات کی خواہشات کا عکاس ہو ۔ ہندوستان نے نیپال میں قدم جمانے چین کی کوششوں کے دوران اس ملک سے کہا کہ وہ اس کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے نیپالی ہم منصب پشپا کمل داہل پراچندہ سے تفصیلی بات چیت کی جو ہندوستان کے دورہ پر آئے ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے تین معاہدات پر دستخط بھی کئے ہیں جن میں ایک معاہدہ ہندوستان کی جانب سے نیپال کو 150 ملین ڈالرس کی زلزلہ کی تعمیر جدید کی مدد سے متعلق بھی ہے ۔ پراچندہ دوسری مرتبہ نیپال کے وزیر اعظم بنے ہیں اور اس معیاد میں یہ ان کا پہلا دورہ ہندوستان ہے ۔ نیپال کے وزیر اعظم کی حیثیت سے کے پی شرما اولی نے ماہ جولائی میں استعفی پیش کردیا تھا کیونکہ مادھیسی برادری کے احتجاج سے صورتحال ابتر ہوگئی تھی ۔ بات چیت کے بعد میڈیا کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کو امید ہے کہ نیپال بات چیت کے ذریعہ اور سماج کے تمام طبقات کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرنے والے دستور کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوجائیگا ۔

 

انہوں نے کہا کہ قریبی پڑوسی اور اچھے دوست ہونے کے ناطے نیپال کا امن ‘ استحکام اور معاشی خوشحالی ہمارا مقصد ہے ۔ اس موقع پر پراچندہ بھی موجود تھے ۔ نیپالی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک ہندوستان سے خیرسگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور دونوں ملکوں کے حالات ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کو یہ اعزاز ہے کہ وہ ہر قدم پر نیپال کا شریک ہے اور ملک کی ترقی اور معاشی ترقی کیلئے ہماری دوستی بے مثال ہے ۔ مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ ترقیاتی پراجیکٹس پر قریبی نظر رکھیں گے اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان وہاں جو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس تعمیر کر رہا ہے ان کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائیگا ۔
نیپال میں استحکام پیدا کرنے پراچندہ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پراچندہ کی قیادت میں نیپال اجتماعی مذاکرات اور عوامی خواہشات کے مطابق ملک کے دستور کو نافذ کرنے میں کامیاب رہے گا ۔ نیپال میں سیاسی تبدیلیوں کے تعلق سے پراچندہ نے کہا کہ ان کی حکومت سماج کے ہر طبقہ کو ساتھ لے کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اسی اعتبار سے دستور نافذ کیا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT