Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / نیک لوگوں کی صحبت سے زندگی پاکیزہ ہوتی ہے

نیک لوگوں کی صحبت سے زندگی پاکیزہ ہوتی ہے

اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو کم از کم بری صحبت سے بچنا چاہئے کیوں کہ بری صحبت کے بہت زیادہ نقصانات ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بروں کی صحبت ، نیکوں کے متعلق بدگمانی پیدا کرتی ہے ، اس کے برخلاف حضرت ذوالنون مصریؒ کے بقول صالحین اور نیک لوگوں کی صحبت سے زندگی پاکیزہ ہوجاتی ہے ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ چار باتوں سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے ۔(۱) فضولیات سے اجتناب (۲) مسواک کا اہتمام (۳)صالحین کی صحبت (۴) علماء کی سنگت ۔
اسی طرح بزرگوں نے فرمایا ہے : تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو (۱) غافل علماء (۲) مکار فقراء (۳) جاہل صوفیہ۔ ان تینوں کی صحبت بڑی خطرناک ہوتی ہے ۔ دین غارت ہوکر رہ جاتا ہے ۔

حضرت خواجہ شمس الدینؒ فرماتے ہیں : پسندیدہ مرید کی نشانی یہ ہے کہ وہ ناجنسوں کی صحبت سے دور رہے اور اگر کبھی مجبوراً ان کے ساتھ بیٹھنے کا اتفاق ہوجائے تو پھر اس طرح بیٹھے جیسے منافق مسجد میں یا نوآموز بچہ مدرسہ میں یا قیدی جیل میں بیٹھتا ہے ۔ یعنی ناجنسوں کی محفل میں دل نہ لگائے ، دل جمعی سے نہ بیٹھے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بری صحبت سے باطن بگڑجاتا ہے ۔
حماد بن واقد کہتے ہیں کہ ایک روز میں حضرت مالک بن دینارؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا وہ تنہا بیٹھے ہیں اور ان کے پاس ایک کتاب یٹھا ہوا ہے ، میں اسے ہٹانے لگا تو فرمایا : چھوڑو ، یہ بُرے ہم نشین سے بہتر ہے ، یہ مجھے تکلیف نہیں دیتا ۔ یعنی بُرے کی صحبت نقصان دہ ہوتی ہے ۔ بُرے آدمی کی صحبت میں بیٹھنے سے تو بہتر یہ ہے کہ آدمی ، کتے کے ساتھ بیٹھے ۔ مطلب یہ ہے کہ بُرا ہم نشین کتے سے زیادہ بدتر ہوتا ہے ۔
اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو نیک لوگوں کے حالات ، ان کے سوانح ، ان کے نصائج اور ملفوظات و مکتوبات بھی ان کی صحبت ہی کی تاثیر رکھتے ہیں ۔ ان کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔ یہ بھی ایک طرح کی ان کی صحبت اور ہم نشینی ہی ہے ۔ اسی لئے میں کہتا ہوں جتنی دیر آدمی قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے ، وہ اﷲ کی صحبت میں رہتا ہے اتنی دیر خدا اس سے ہم کلام رہتا ہے اور جتنی دیر بندہ دعا کرتا ہے ، وہ خدا سے ہم کلام ہوتا ہے ۔اسی طرح سیرت اور حدیث کے مطالعہ کے دوران قاری کو رسول اکرم ﷺ کی صحبت حاصل رہتی ہے ۔ اس لئے قرآن وحدیث اور سیرت کا مطالعہ کرتے رہو یہ بھی خدا اور رسول کی صحبت ہی ہے ۔ روزانہ صحبت خدا و رسول کا یہ شرف ضرور حاصل کرتے رہو زندگی کندن کی طرح نکھرجائے گی ۔ یہ بڑا عظیم شرف ہے ۔ اسی طرح علماء کی کتابیں ، بزرگان دین کے ملفوظات اور مکتوبات کا مطالعہ بھی ان کی صحبت کا قائم مقام ہوتا ہے۔

بعض اوقات نیک لوگوں کی صحبت کی راہ میں نفس دو وجوہ سے مانع ہوتا ہے اور خواہش کے باوجود صحبت کی اجامت نہیں دیتا ۔ ایک علمی وجاہت ، دوسرے عمر میں بڑا ہونا ۔ اگر کسی کی علمی وجاہت اور عزت و شہرت زیادہ ہے وہ کسی ایسے صالح آدمی کی صحبت اختیار کرتے ہوئے پس و پیش کرتا ہے جس کی علمی وجاہت کم ہے ۔ ایسی حالت میں نفس کی مخالفت کرکے نیک اور صالح آدمی کی صحبت ضرور اختیار کرلینی چاہئے ۔ ہمارے اسلاف میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جنھوں نے اپنی علمی وجاہت اور عزت و شہرت کو نظرانداز کردیا اور اپنے سے کم علمی وجاہت والے نیک لوگوں کے حلقہ صحبت میں داخل ہوکر ان سے مستفید اور فیض یاب ہوئے ۔
حضرت امام احمد بن حنبلؓ اپنی علمی وجاہت اور محدثانہ شان اور عزت و شہرت کی بلندیوں پر فائز ہونے کے باوجود حضرت بشر حافی رحمۃ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے استفادہ فرماتے تھے ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا انواراﷲ فاروقی رحمۃ اﷲ علیہ بانی جامعہ نظامیہ (حیدرآباد دکن ) ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اﷲ علیہ بانی دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ جیسی عبقری شخصیات نے حضرت حاجی امداداﷲ مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کی جب کہ حضرت مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے علوم ظاہری کی درسیات کی تکمیل تک نہ فرمائی تھی لیکن اپنے زہد و تقویٰ اور فیضان ِ باطنی کی وجہ سے شیخ العرب و العجم کہلاتے ہیں ۔
اسی طرح کسی صالح اورنیک آدمی کی عمر کم ہو تو بڑی عمر والا اس کی صحبت اختیار کرنے میں پس و پیش کرتا ہے ۔ مگر یہ بھی نفس کی شرارت ہوتی ہے جو اس کو غلط پندار میں مبتلا کرکے اس کو اپنی بڑائی کا احساس دلاکر نیک صحبت سے محروم رکھنا چاہتا ہے ۔ ایسی صورت میں نفس کی مخالفت کرکے اس نیک صحبت سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے ۔ حضرت مفتی الٰہی بخش کاندھلوی رحمۃ اﷲ علیہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف عالم دین تھے اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اﷲ علیہ کے شاگرد رشید تھے ۔ جن کو شاہ صاحب اپنی نیابت کا مستحق گردانتے تھے ، اس قدر بلند اور جلیل القدر مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود انھوں نے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جب کہ حضرت سید احمد شہید رحمۃ اﷲ علیہ ان سے چالیس (۴۰) سال چھوٹے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT