Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / نیک نامی ہی ایک جوڈیشیل آفیسر کا واحد اثاثہ

نیک نامی ہی ایک جوڈیشیل آفیسر کا واحد اثاثہ

جوڈیشیل آفیسرس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے سپریم کورٹ جج جسٹس چلمیشور کا خطاب
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( ایجنسیز ) : سیول تنازعات جیسے جائیداد ، طلاق اور کرایہ دار ، لینڈ کارڈ کے تنازعات کی یکسوئی میں پولیس کی مداخلت سے سیول عدالتوں کے وجود پر سوالیہ نشان پیدا ہوا ہے ۔ اگر زیادہ لوگوں کا پولیس پر ایقان ہو تو عدالتوں ، عدلیہ کے اداروں کی اہمیت و افادیت خطرہ میں پڑ جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس چلمیشور نے یہ بات کہی ۔ یقین و اعتبار کے بحران کے بارے میں بتاتے ہوئے جس سے نظام عدلیہ گزرہا ہے انہوں نے جوڈیشیل آفیسرس کو خبردار کیا کہ نیک نامی ہی ایک جوڈیشیل آفیسر کا واحد اثاثہ ہوتا ہے ۔ آئیے ہم ہمارے اس واحد اثاثہ کو نہیں کھوئیں ۔ اس وقت کی ایک مثال کا تذکرہ کرتے ہوئے جب وہ اے پی ہائی کورٹ کے سینئیر جج تھے جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ضلع گنٹور میں سیول تنازعات میں پولیس کی مداخلت حد سے زیادہ تھی ۔ ہزاروں کی تعداد میں جائیداد کے تنازعات ، طلاق کے معاملات اور کرایہ دار ، مکان دار کے تنازعات کی پولیس کی مداخلت سے یکسوئی ہوتی تھی ۔ اس سے دستور کے تین آرگنس کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے فاونڈیشن پر سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے ۔ اگر عوام عدالتوں سے زیادہ پولیس پر یقین کریں تو عدلیہ اس کے رول سے محروم ہوجائے گی جو دستور سازوں نے اسے تفویض کیا ہے ۔ یہاں جوڈیشیل آفیسرس کی ریاستی سطح کی دو روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس چلمیشور نے کہا کہ دستور کے تین آرگنس میں عدلیہ ہی واحد ادارہ ہے جس کی کارکردگی پر روزانہ کی اساس پر سوال کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہمارے لیے بڑے چیالنجس ہیں اور ہم کو ان چیالنجس سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ عدلیہ پر ہمیشہ عوام کی نظر ہوتی ہے اور اسے نہ صرف اندر کے چیالنجس ہوتے ہیں بلکہ باہر کے چیالنجس بھی ہوتے ہیں ۔ ہم بہتر انداز میں ان سے نمٹتے ہیں لیکن ہمیں اندر کے چیالنجس پر نظر رکھنے اور اس سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT