Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / وائس چانسلر کے ہاتھوں ڈگری لینے سے ریسرچ اسکالر کا انکار

وائس چانسلر کے ہاتھوں ڈگری لینے سے ریسرچ اسکالر کا انکار

Combo:Mr.V.Sunkanna (friend of Rohit Vimala) refuses to take Ph.D degree in philosophy from Appa Rao Podile VC of HCU, He receive it from Pro.VC Vapin Sristava XVIII Convocation of Hyderabad Central University on October 1, 2016, in Hyderabad on Saturday. Pic: Style photo service.

حیدرآباد یونیورسٹی کے کانوکیشن میں روہت ویمولہ کے ساتھی کا انوکھا احتجاج

حیدرآباد ۔ یکم ۔ اکٹوبر : ( پی ٹی آئی ) : یونیورسٹی آف حیدرآباد ( او یو ایچ ) کے ایک ریسرچ اسکالر ویلپولہ سنکنا نے جنہیں گذشتہ سال پی ایچ ڈی کے ایک ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ اور چند دیگر طلبہ کے ساتھ یونیورسٹی ہاسٹل سے معطل کردیا گیا تھا ۔ آج اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپا راؤ پوڈیلی کے ہاتھوں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے سے انکار کردیا ۔ جلسہ تقسیم اسناد کے دوران جیسے ہی سنکنا کا نام پکارا گیا وہ اسٹیج پر پہونچ گیا لیکن اپا راؤ پوڈیلی کے ہاتھوں دی جانے والی ڈاکٹریٹ ڈگری قبول کرنے سے صاف انکار کردیا ۔ بعد ازاں پرووائس چانسلر این سریواستوا آگے آئے اور سنکنا کو پی ایچ ڈی کی ڈگری پیش کی ۔ ویلپولہ سنکنا اور روہت ویمولہ ان پانچ طلبہ میں شامل تھے جنہیں تادیبی کارروائی کی بنیادوں پر گذشتہ سال یونیورسٹی ہاسٹل سے معطل کردیا گیا تھا ۔ تاہم ان کی معطلی بعد ازاں منسوخ کردی گئی تھی ۔ رواں سال جنوری کے دوران یونیورسٹی کیمپس کے ایک ہاسٹل روم میں روہت ویمولہ کی نعش لٹکتی ہوئی پائی گئی تھی ۔ اس دلت ریسرچ اسکالر کی خود کشی پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران یونیورسٹی کے طلبہ نے وائس چانسلر پوڈیلی کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ سنکنا جو فی الحال آئی آئی ٹی بمبئی سے فلاسفی میں پوسٹ ڈاکٹورل کورس کررہا ہے ۔ پی ٹی آئی سے کہا کہ ’ ( روہت خود کشی کیس میں وائس چانسلر کے مبینہ رول پر ) بطور احتجاج مئیں نے ان ( اپا راؤ پوڈیلی ) کے ہاتھوں اپنی ڈگری لینے سے انکار کردیا ‘ ۔ روہت کی موت کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ ، چند سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ دوسروں کے علاوہ وائس چانسلر بھی روہت کی خود کشی کے ذمہ دار ہیں ۔ ویلپولہ سنکنا کے انکار پر تبصرہ کے لیے رابطہ کرنے پر اپا راؤ پوڈیلی نے اس واقعہ کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کے ہاتھوں اپنے اسناد قبول کرنا یا نہ کرنا اس طالب علم کی مرضی پر منحصر ہے ۔ یہ اُس کی مرضی کی بات ہے ۔ جس ( سنکنا کے انکار ) پر ہمیں بہت زیادہ فکر مند یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT