Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس آر کانگریس ارکان اسمبلی کی تلگودیشم میں شمولیت

وائی ایس آر کانگریس ارکان اسمبلی کی تلگودیشم میں شمولیت

انحراف پر چندرا بابو نائیڈو موقف کی وضاحت کریں۔ وزیر کمرشیل ٹیکسیس سرینواس یادو
حیدرآباد۔/23فبروری ، ( سیاست نیوز) وزیر کمرشیل ٹیکسیس سرینواس یادو نے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو پر نچلی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس یادو نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر اعتراض کرنے والے چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس کے ارکان کو کس طرح تلگودیشم میں شامل کررہے ہیں۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایک ہی دن میں وائی ایس آر سی پی کے 4 ارکان اسمبلی اور ایک ایم ایل سی کو تلگودیشم میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو سے سوال کیا کہ جس طرح انہوں نے تلنگانہ میں تلگودیشم ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا چیلنج کیا تھا کیا وہ اپنے اس موقف پر برقرار ہیں۔ کیا وہ وائی ایس آر کانگریس کے ارکان اسمبلی کو مستعفی ہوکر دوبارہ مقابلہ کرنے کی ہدایت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تلنگانہ میں پارٹی ارکان کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر ہنگامہ کیا گیا اب آندھرا پردیش میں اسی چیز کو دوہرایا جارہا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے سرینواس یادو کو دوبارہ منتخب ہونے کا چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو جانور قراردینے والے چندرابابو نائیڈو آج کس حیثیت سے وائی ایس آر کانگریس کے ارکان اسمبلی کو پارٹی میں شامل کررہے ہیں۔ سرینواس یادو نے کہا کہ نائیڈو نے لالچ اور بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت کا الزام عائد کیا تھا، اب انہیں وضاحت کرنی چاہیئے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی ارکان کو انہوں نے کیا لالچ دیا ہے۔ تلنگانہ میں ایک اصول اور آندھرا پردیش میں ایک موقف دوہرا معیار نہیں تو اور کیا کیا ہے۔ سرینواس یادو نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست کی ترقی میں حصہ دار بننے کیلئے تلگودیشم ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ہے اور چندرا بابو نائیڈو کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے نائیڈو کو مشورہ دیا کہ وہ آندھرا پردیش میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں اور تلنگانہ کے اُمور میں مداخلت سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT