Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / وادی میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسیس میں جھڑپیں

وادی میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسیس میں جھڑپیں

عام زندگی مسلسل 93 دن سے مفلوج ، معیشت کو 10 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ، عوام کو شدید مشکلات

سرینگر۔ 9 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) سرینگر کے اندرونی علاقوں میں کرفیو ہنوز برقرار ہے جبکہ شہر میں معمول کی سرگرمیاں کسی قدر بحال دکھائی دیں۔ یہاں ہفتہ وار بازار کھلے رہے لیکن وادی کے دیگر تمام علاقوں میں عام زندگی مسلسل مفلوج رہی۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سرینگر کے پانچ پولیس اسٹیشن حدود نوہاتا، خان یار، ایناواڑی، صفا کدال اور مہاراج گنج میں احتیاطی اقدام کے طور پر کرفیو برقرار ہے۔ دو پولیس اسٹیشن حدود میسوما اور بٹمالو سے تحدیدات برخاست کردی گئی ہیں۔ شہر کے دور دراز علاقوں میں کشیدگی ہنوز برقرار ہے جبکہ کل ایک کمسن پیلٹ گن سے زخمی ہونے کے بعد جانبر نہ ہوسکا تھا۔ اس کے بعد مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے مابین کئی مقامات پر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

12 سالہ جنید اخون حمید کو جھڑپوں کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہونے کے بعد دوسرے دن جانبر نہ ہوسکا۔ اس طرح جاریہ بدامنی میں مرنے والوں کی تعداد 84 تک پہنچ گئی ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں بالخصوص تجارتی مرکز لال چوک پر گزشتہ دو دن سے سڑکوں پر آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب وادی کے اطراف واکناف میں ہڑتال کے باعث معمول کی زندگی مسلسل 94 ویں دن بھی مفلوج رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 93 روز کے دوران وادی کی معیشت کو کم از کم دس ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ سب سے زیادہ نقصان سیاحتی صنعت ، تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کا ہوا ہے ۔ اسی عرصے کے دوران کشمیر انتظامیہ نے وادی میں جاری احتجاجی مظاہروں کی لہر کو بے اثر بنانے کم از کم 6 ہزار افراد کو حراست میں لیا

، جن میں سے اب تک سینکڑوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا جاچکا ہے جس کے تحت انہیں کم از کم تین ماہ تک بند رکھا جائے گا۔ خیال رہے کہ 7 اکتوبر کو جمعہ کے دن علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ‘اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر’ تک مارچ کی اپیل ناکام بنانے کے لئے تقریباً سری نگر کے تمام حصوں میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق نارہ بل میں اتوار کی صبح درجنوں افراد ایک مقامی نوجوان کی گرفتاری کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم جب سیکورٹی فورسز کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے یہ مظاہرین سری نگر گلمرگ روڑ کی طرف بڑھنے لگے تو وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
سیول لائنز میں پولیس تھانہ مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، بڈشاہ چوک اور ککر بازار سے آج صبح کرفیو ہٹالیا گیا۔ ان علاقوں میں جمعہ کے روز سڑکوں پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں بشمول خاردار تاریں ہٹالی گئی ہیں۔ تاہم سیول لائنز کے سبھی علاقوں جن میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں گذشتہ 93 روز سے ٹھپ پڑی ہوئی ہیں، میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT