Thursday , June 22 2017
Home / Top Stories / وادی میں تشدد کے خاتمہ کیلئے طلبہ کو لیاپ ٹاپ اور کتابوں کے انتخاب کا مشورہ

وادی میں تشدد کے خاتمہ کیلئے طلبہ کو لیاپ ٹاپ اور کتابوں کے انتخاب کا مشورہ

مسلسل بے چینی سے کئی نسلیں تباہ ، ذہنوں میں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسیس کا خوف ، کشمیری طلبہ سے جنرل بپن راوت کا خطاب

نئی دہلی۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں گڑبڑ و بے چینی کے سبب کئی نسلیں تباہ ہوگئی ہیں، اس ریاست کے طلبہ و نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کا سلسلہ ختم کرنے میں مدد کیلئے لیاپ ٹاپ اور کتابوں کا انتخآب کریں۔ جنرل راوت نے ان کشمیری طلبہ کے ایک گروپ سے جن کی فوج نے مدد کی تھی اور جنہوں نے آئی آئی ٹی انٹرنس امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان (طلبہ) کی کامیابی کوئی آسان معاملہ نہیں تھا اور بے یہی طلبہ ساری وادی کے طلبہ و نوجوانوں کے لئے ایک تابناک مثال بن گئے ہیں۔ سربراہ فوج نے جموں و کشمیر میں اپنی خدمات کی انجام دہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج میں شمولیت میں ان کی پہلی تعیناتی 1981-82ء کے دوران جموں و کشمیر میں ہی ہوئی تھی۔ اس وقت صورتحال بہتر تھی لیکن 1991ء اور 1993ء میں دوسری مرتبہ تعیناتی کے وقت انہوں نے محسوس کیا تھا کہ ریاست کی صورتحال بگڑنے لگی ہے۔ تیسری مرتبہ 2006-2008ء اور اس کے بعد 2010-12ء میں ان کی کشمیر میں تعیناتی عمل میں آئی تھی۔ جنرل راوت نے ان طلبہ سے سوال کیا کہ ’’اس صورتحال کو میں دیکھ چکا ہوں اور اب مزید کتنی نسلیں بندوق کی گھن گرج اور بارود سے اُٹھتا ہوا دھواں دیکھتی رہیں گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس (گڑبڑ و بے چینی) کے سبب کئی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ کشمیر کے عوام اور نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ عسکریت پسند یا سکیورٹی فورسیس آئیں گے چنانچہ آپ کے پاس ایک طرف عسکریت پسند ہیں تو دوسری جانب سکیورٹی فورسیس ہیں۔ آخر کب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی۔ ہمیں اس کو ختم کرنا ہوگا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ وہاں (کشمیر) میں امن بحال ہوجائے اور کسی مشکل یا مسئلہ کے بغیر ہم روزمرہ کے کام کرتے رہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گڑبڑ اور بے چینی کی حالیہ لہر سے وادی میں سیاحت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کشمیر جنت نشان ہے اور ہمیں اس وادی کو دوبارہ اس سطح پر لانا چاہئے جہاں پہلے تھی۔ دنیا بھر کے لوگ وادی کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کشیدگی کے سبب عوام وہاں نہیں پہونچ پا رہے ہیں‘‘۔ جنرل راوت نے نوجوانوں پر زور دیا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے مقام واپس ہوں اور اپنی ریاست کی ترقی میں مدد کریں تاکہ عوام کو درپیش مصائب کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انہیں (نوجوانوں کو) چاہئے کہ ان کے پاس کتاب یا لیاپ ٹاپ رہے اور ممکنہ وقت تعلیم کیلئے وقف کردیں‘‘۔ فوج نے مرکز برائے سماجی ذمہ داری و قیادت (سی ایس آر ایل) کے تعاون سے جموں و کشمیر میں سوپر 40 پروگرام کا اہتمام کیا تھا جو کہ عوامی شعبہ کی صنعتی یونٹ پٹرونٹ ایل این جی نے فنڈ فراہم کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد ریاست کے منتخب طلبہ کو آئی آئی ٹی انٹرنس ٹسٹ میں کامیابی کیلئے اہل بنانے میں ان کی مدد کرنا تھا۔ ’’سوپر 40 پروگرام‘‘ میں اس سال 35 طلبہ نے حصہ لیا تھا جن کے منجملہ 24 طلبہ نے جے ای ای مینس میں کامیابی حاصل کی اور این آئی ٹیز میں ایک نشست کیلئے اہلیت حاصل کئے ہیں۔ 24 کے منجملہ 9 نے جے ای ای اڈوانسڈ میں کامیابی حاصل کی۔ آئی آئی ٹی نشست حاصل کرنے کیلئے اس انٹرنس ٹسٹ میں کامیابی ضروری ہوتی ہے اور جو این آئی ٹیز یا آئی آئی ٹیز انٹرنس میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے کامن انٹرنس ٹسٹ (سی ای ٹی) برائے انجینئرنگ میں کلیئرنس کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT