Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / وادی میں 33 ویں دن بھی عام زندگی مفلوج

وادی میں 33 ویں دن بھی عام زندگی مفلوج

عازمین حج کے پہلے قافلے کو محبوبہ مفتی نے روانہ کیا ، دعائوں کی درخواست
سری نگر۔10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں آج مسلسل 33 ویں دن بھی عام زندگی بری طرح متاثر رہی کیوں کہ بعض حصوں میں کرفیو اور مابقی وادی میں تحدیدات برقرار ہیں۔ علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے احتجاجی پروگرام کے پیش نظر سکیوریٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بعض حصوں اور اننت ناگ ٹائون میں کرفیو برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر 4 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ وادی کشمیر میں مجموعی صورتحال میں کسی قدر بہتری آئی ہے۔ فوج کی جانب سے پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی بعض مقامات پر مدد کی جارہی ہے تاکہ گڑبڑ کرنے والوں کو سڑکوں پر آنے سے روکا جاسکے۔ اسکولس، کالجس، تجارتی ادارے، پٹرول پمپس اور خانگی دفاتر بند ہیں اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نظام بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں حاضری انتہائی کم ہے۔ موبائل انٹرنیٹ خدمات کو مسدود رکھا گیا ہے

 

اور پری پیڈ کنکشن رکھنے والوں کو آئوٹ گوئنگ کی سہولت نہیں دی جارہی ہے۔ علیحدگی پسند گروپس نے ہڑتال میں 12 اگست تک توسیع کی ہے۔ کشمیر میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی 8 جولائی کو سکیورٹی فورسس کے ساتھ انکائونٹر میں ہلاکت کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔سکیورٹی فورسس اور احتجاجی مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں اب تک 55 افراد بشمول دو ملازمین پولیس ہلاک اور ہزاروں شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران جموں کشمیر سے 340 عازمین حج کا پہلا قافلہ آج سعودی عرب کے لئے روانہ ہوا۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے ریاست میں امن و ترقی کے لئے دعائوں کی اپیل کی۔ انہوں نے عازمین حج کے پہلے قافلے کو روانہ کرتے ہوئے ان کے محفوظ سفر اور مناسک حج کی بہتر انداز میں ادائیگی کے لئے دعا کی۔ جموں کشمیر سے جاریہ سال 6457 عازمین حج روانہ ہوں گے۔ وہ پہلے سری نگر سے مدینہ منورہ جائیں گے اور ان کے لئے جملہ 20 پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے عازمین حج سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست میں امن اور ترقی کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کے مشکلات ختم ہونے کے لئے دعا کریں۔

 

پلیٹ گنس متاثرین سے سرکاری فیکلٹی ممبرس  کا اظہار یگانگت
سری نگر۔10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجس کے فیکلٹی ممبرس نے آج وادی میں تشدد کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ انہوں نے پلیٹ گنس کے استعمال کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ سفید کورٹ پہنے اور ایک آنکھ بند کئے احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے مریضوں کے کے ساتھ یگانگت کا مظاہرہ کیا جو پلیٹ گنس سے زخمی ہونے کے بعد اپنی بینائی سے محروم ہوگئے۔ میڈیکل فیکلٹی اسوسی ایشن نے بتایا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج کی راہداری میں پرامن مظاہرہ کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وادی کے علاوہ غیر مقامی ماہرین ڈاکٹرس کی جانب سے تشویش ظاہر کئے جانے کے باوجود پلیٹ گنس کا مسلسل استعمال ہورہا ہے اس کی وجہ سے کئی زخمی  بینائی سے محروم اور کئی لوگوں کے اعضاء متاثر ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT