Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / وادی کشمیر اور حکومت پاکستان

وادی کشمیر اور حکومت پاکستان

میری راہ میں خار ہی خار ہوں گے
تمہیں ان پہ چل کر ہے آنا تو آؤ
وادی کشمیر اور حکومت پاکستان
کشمیر کے تعلق سے حکومت ہند کی پالیسی پر دن بہ دن ہونے والی تنقیدوں اور وادی کی صورتحال پر تشویش رکھنے والے گروپس نے مرکز پر زور دیا ہیکہ وہ اس وادی کو مزید نازک بنانے سے گریز کرے۔ کشمیر کے بارے میں دونوں ملکوں ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کی سیاسی پالیسیوں نے وادی کے عوام کو نازک دور میں ڈھکیل دیا ہے۔ حکومت ہند اس ریاست کے ساتھ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح برتاؤ نہیں کرتی اور وادی کے عوام اپنی سرزمین پر امن کی برقراری کیلئے ترس رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت پاکستان اپنے سیاسی مقاصد کے لئے وادی کشمیر کی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیلئے جاری انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے مقبوِضہ کشمیر کے عوام کو رجھانے کی خاطر یہ کہہ دیا کہ پاکستان کو اس دن کا انتظار ہے جب وادی کشمیر اس کا حصہ بن جائے۔ ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کو پاک مقبوضہ کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی ملنے کے بعد عوام کے سامنے اظہارخیال کرنا تھا تو امن کی بات کرتے مگر ان کی تقریر وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مزید دھماکو بنانے کیلئے کافی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی اور کہا کہ کشمیریوں کی اس جدوجہد آزادی کو اب روکا نہیں جاسکتا اور یہ جدوجہد کامیاب ہوکر رہے گی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پاک مقبوضہ کشمیر میں آئندہ حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کل یہاں ہوئی رائے دہی میں پی ایم ایل این کو بھاری اکثریت ملنے والی ہے۔ پاکستان کی ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت سے وزیراعظم نواز شریف کو پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے بارے میں حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدہ حالات کے درمیان وادی کشمیر کو بدامنی کی آگ میں جھونک دینے والے واقعات کو ہوا دی جائے تو یہ مناسب نہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کشمیر کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں غوروخوض کیا اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے رجوع ہوکر کشمیریوں کی ہلاکت اور یہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے حقائق کا پتہ چلانے والی ٹیم روانہ کرنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کی۔ جس مسئلہ کو سفارتی سطح پر باہمی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کی تکلیف بھی جائز ہے کہ وادی کشمیر میں تشویشناک صورتحال ہے۔ لاء اینڈ آرڈر صورتحال پر قابو پانے کیلئے وادی کی پولیس کی کوششوں پر تنقیدیں ہورہی ہیں۔ کشمیری عوام کے خلاف سیکوریٹی فورس کا طاقتور اور بہیمانہ طریقہ سے استعمال کو بھی کشمیری عوام سے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی متصور کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ اور اسلامی تنظیم برائے تعاون (او آئی سی) سے کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھنے کی درخواست کوئی نئی نہیں ہے اس سے قبل بھی وادی کی صورتحال دھماکو ہونے پرپاکستان کی قیادت نے اپنے حصہ کے طور پر یکطرفہ اور غیرشعوری طور پر بیانات دیتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس نازک مسئلہ پر سیاست کرنے سے گریز کرے۔ جہاں تک وادی کی صورتحال کے بھیانک ہونے کا سوال ہے حکومت ہند کو بھی اس مسئلہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر اس نے وادی کشمیر کی صورتحال کے ساتھ من مانی طریقہ سے نمٹنے یا طاقت کے بل پر اپنی بات منوانے کی کوشش کی تو حالات مزید نازک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ وادی کشمیر کی صورتحال کا واحد حل دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ وادی میں اشتعال انگیزی کو روکنے والے اقدامات کرنے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے یہی کہتا آرہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کا واحد راستہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل آوری ہے اوراقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت یہاں پر غیرجانبدارانہ طور پر رائے شماری کروائی جائے۔ وادی کشمیر کے عوام ہندوستان کے ساتھ رہنے کیلئے تیار ہیں مگر سیاسی طاقتوں نے عوام کو منتشر کرکے اپنے سیاسی مقاصد کو بروئے کار لایا ہے۔ وادی کشمیر کی موجودہ حکومت پی ڈی پی کی زیرقیادت بی جے پی اتحاد سے چل رہی ہے مگر بی جے پی اور پی ڈی پی کا یہ سیاسی اتحاد وادی کی بدامنی سے دوچار کررہا ہے تو یہ سیاسی گٹھ جوڑ بھیانک نتائج بھی برآمد کرے گا۔ وادی کی صورتحال کو درست تناظر میں دیکھ کر بہتر سے ہتر انتظامات کئے جانے چاہئے۔ حکومت ہند اور حکومت پاکستان کو اپنے طو رپر ایسی کوئی غلطی نہیں کرنی چاہئے جس سے ساری وادی کشمیر اور عوام کو مزید تباہ کن حالات کا شکار ہونے دیا جائے۔ وادی کشمیر کے عوام کی یہ سمجھداری ہی ہیکہ اب تک انہوں نے اپنی زندگیوں کی بہتری کی فکر کے ساتھ پرامن طریقہ سے رہنے کی کوشش کی ہے۔ سیکوریٹی فورسیس یا دیگر طاقتوں کی بیجا کارروائیوں سے بیزار کشمیری عوام کو آئندہ ان زیادتیوں سے چھٹکارا دلایا جائے تو وادی بلاشبہ امن و سکون کا مقام بنے گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے وعدے
امریکہ کو اس وقت ساری دنیا کی ترقیاتی معیشتوں کا سردار سمجھا جاتا ہے مگر یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی کے بعد امریکہ کے داخلی سیاسی و معاشی صورتحال کے بارے میں کچھ مبصرین نے منفی رائے قائم کی ہے۔ ایسے میں امریکی صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ایک ایسے امیدوار کی حمایت کی گئی ہے جس نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ہی نفرت پر مبنی تقریروں سے کیا۔ مسلمانوں کے حکومت ڈونالڈ ٹرمپ کی رائے سے آج ساری دنیا واقف ہوچکی ہے۔ عرب ملکوں کو اس لیڈر کی سیاسی قابلیت پر شبہ ہے تو خود امریکہ کے عوام کی اکثریت ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کو امریکی معیشت کی تباہی متصور کرنا شروع کیا ہے۔ ایسے میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے بطور صدارتی امیدوار نامزدگی قبول کرنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کو لاحق خطرات سے دور رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو خارجہ پالیسی سے زیادہ داخلہ پالیسی کیا ہوگی یہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ امریکہ میں سفیدفام اور سیاہ فام کے درمیان امتیازات اور تشدد کے برسوں پرانے واقعات کے درمیان حالیہ سفید فام پولیس والوں کی جانب سے سیاہ فام نوجوانوں پر فائرنگ اور اموات کا انتقام لینے کے ارادہ کے ساتھ سیاہ فام نوجوانوں نے جوابی کارروائی کرکے امریکہ کی داخلی صورتحال سے ساری دنیا کو واقف کردیا ہے۔ ایسے میں صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہیکہ وہ امریکہ کی موجودہ صورتحال کو ختم کرکے ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔ امریکہ میں عام آدمی کو اولیت دی جائے گی۔ شہری حقوق کے معاملہ میں امریکہ کا داخلی قانون مضبوط ہے مگر بیرون امریکہ انسانی حقوق کی پالیسی موضوع بحث رہتی ہے۔ ڈونالڈ ٹمرپ اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر کس طرح کامیاب ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT