Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / وادی کشمیر میں برقراری امن کیلئے وزیراعظم کی اپیل

وادی کشمیر میں برقراری امن کیلئے وزیراعظم کی اپیل

صورتحال کا جائزہ ، مزید ایک ہلاک ، کئی مقامات پر سنگباری کے واقعات ،والدین اپنے بچوں کو روکیں ، محبوبہ مفتی کا ٹیلی ویژن پر خطاب
سرینگر ۔ / نئی دہلی ۔ /12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں آج بھی تشدد کے اکادکا واقعات پیش آئے اور مزید ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اب تک مرنے والوں کی تعداد 25 تک پہونچ گئی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے صورتحال کا جائزہ لیا اور برقراری امن کی اپیل کی ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کسی بھی بے قصور شخص کو کسی طرح کی مشکل درپیش نہیں ہوگی ۔ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ تشدد اور لوٹ مار کے واقعات میں 5 افراد زخمی ہوگئے اور کئی پولیس ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ وادی میں تقریباً دو درجن مقامات پر ہجوم نے تشدد اور لوٹ مار مچائی ۔ تاہم انہوں نے صورتحال کو قابو میں بتایا ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ خود ایک ماں کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اپنے بچوں کو اس طرح کے پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے نہ دیں ۔ ایسے واقعات میں اکثر انسانی جان بھی ضائع ہوجایا کرتی ہے ۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر سماجی عناصر عام آدمی کو گمراہ کررہے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں تشدد بھڑک رہا ہے اور سکیورٹی فورسیس کو بھی ردعمل کیلئے مشتعل کیا جارہا ہے ۔ دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ، وزیر فینانس ارون جیٹلی ، وزیر دفاع منوہر پاریکر ، وزیر امور خارجہ سشما سواراج اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اجلاس میں شریک تھے ۔ وزیراعظم نے ریاست کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی جہاں پرتشدد مظاہروں اور سکیورٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہوگئی ہے ۔ گزشتہ جمعہ کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد یہ تشدد پھوٹ پڑا ۔ وزیراعظم جموں و کشمیر کے عوام سے امن کی اپیل کی تاکہ صورتحال کو معمول پر لایا جاسکے ۔ انہوں نے یہ توقع ظاہر کی کہ کسی بھی بے قصور شخص کو کسی طرح کی مشکل یا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

منسٹر آف اسٹیٹ پرائم منسٹر آفس جتیندر سنگھ نے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس کو بتایا کہ ریاستی حکومت کو جو کچھ ضرورت ہو مرکز مدد کرے گا ۔ وزیراعظم کو وادی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات سے واقف کرایا گیا ۔ اپنے بیرونی دورہ کے وقت بھی وزیراعظم جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں واقفیت حاصل کرتے رہے ۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم کی تشویش کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بیرونی دورہ سے واپسی کے اندرون چند گھنٹے اجلاس منعقد کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا ۔ آج وادی میں ایک شخص اس وقت ہلاک ہوگیا جب پولیس نے ضلع کپوارہ میں کرال پورہ پولیس اسٹیشن کے باہر سنگباری میں مصروف ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی ۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا اور ایک پولیس گاڑی کو آگ لگادی جس میں اہلکار پھنس گئے تھے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے دوران ایک شخص زخمی ہوگیا جو بعد ازاں جانبر نہ ہوسکا ۔ اس کے علاوہ عادل احمد مٹو جو کل بیچ بہارا میں فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہوا تھا رات دیر گئے ہاسپٹل میں جانبر نہ ہوسکا ۔ مٹو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دہلی یونیورسٹی سے ایم کام کررہا تھا ۔ وہ حال ہی میں عیدالفطر منانے کیلئے یہاں آیا تھا ۔ گزشتہ جمعہ سے جاری پرتشدد واقعات میں 350 سے زائد افراد بشمول 115 سکیورٹی ارکان عملہ زخمی ہوئے ہیں ۔ وادی میں عام زندگی مفلوج ہے اور نامعلوم عسکریت پسندوں نے آج سوپور میں ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنایا ۔ دیگر کئی مقامات پر بھی سنگباری کے واقعات پیش آئے ۔ وادی میں علحدگی پسند گروپس کی ہڑتال کے سبب سڑکوں پر کوئی گاڑیاں نہیں چلائی گئی اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے ۔مختلف تعلیمی اداروں میں اپنے امتحانات بھی ملتوی کردیئے ہیں ۔ وادی میں کرفیو جیسی تحدیدات ہیں اور اکثر علحدگی پسند قائدین بشمول سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک تحویل میں یا پھر نظربند ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT