Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / وادی کشمیر میں بے چینی ختم کرنے مذاکرات، کانگریس کی تجویز

وادی کشمیر میں بے چینی ختم کرنے مذاکرات، کانگریس کی تجویز

گورنر جموں وکشمیر این این ووہرا کے کانگریس کے وفد کی ملاقات کے بعد صدر پردیش کانگریس جی اے میر کی پریس کانفرنس

سرینگر ۔ 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) برسراقتدار مخلوط حکومت پر جموں و کشمیر کے عوام سے غداری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے آج مستقل اور بامعنی مذاکرات کی تجویز پیش کی، جس میں دلچسپی رکھنے والے تمام اداروں اور افراد بشمول علحدگی پسندوں کو شامل کیا جائے تاکہ کشمیر کی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔ وادی کے مسائل کی یکسوئی ہوسکے اور چار ماہ طویل احتجاج کا خاتمہ ہوسکے۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جی اے میر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نے گورنر سے کہہ دیا ہیکہ حریت قائدین کے ساتھ بات چیت کی تین ماہ طویل احتجاج کے خاتمہ کا واحد راستہ ہے۔ حکومت بات چیت کی پابند ہے لیکن انہوں نے مذاکرات کو پس پشت رکھ دیا ہے۔ یہ کشمیری عوام سے غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں فریقین (پی ڈی پی اور بی جے پی) سے کہہ دینا چاہتے ہیکہ ان کا ایجنڈہ برائے اتحاد (اقل ترین مشترکہ پروگرام) ہر ایک سے مسلسل بات چیت کی تائید کرتا ہے۔ غلام احمد میر گورنر این این ووہرہ سے راج بھون میں کانگریس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ریاستی گورنر پر اور مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی بامعنی بات چیت ہر ایک کے ساتھ نہ کی جائے تو عوام اور کانگریس پارٹی کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتی۔ ریاستی صدر کانگریس نے کہا کہ مذاکرات کا عمل کھلے ذہن کے ساتھ شروع کیا جانا چاہئے۔ اس کے بعد مہلت طلب کی جاسکتی ہے تاکہ مسائل کی یکسوئی ہوسکے۔ تمام مسائل کی یکسوئی ایک ہی دن میں ناممکن ہے۔ ایک گروپ یا فورم تشکیل دیا جانا چاہئے جو تجاویز پیش کرے یا ہر ایک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ ان کے نکات نظر حاصل کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار پی ڈی پی نے عوام سے غداری کی ہے۔ اب خود چیف منسٹر کہہ رہی ہیںکہ مسلح افواج کا خصوصی اختیارات قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کیلئے اس بارے میں عوام سے رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔ صدر کانگریس نے کہا کہ انہیں ہر موضوع پر اپنا موقف برعکس کرلینے کی عادت ہے۔برقی توانائی پراجکٹ کی بحالی کے سلسلہ میں بھی وہ ایسا ہی کرچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT