Friday , September 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / والدین اپنی اولاد کو عیش و عشرت کا عادی نہ بنائیں

والدین اپنی اولاد کو عیش و عشرت کا عادی نہ بنائیں

 

ابوزہیرسیدزبیرھاشمی نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ
اﷲ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ انعا مات اور احسانات پر دائمی شکر بجالانا ہر ایک مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے، اگر ہر مسلمان غور و فکر کرے تو اُسے معلوم ہوجائیگا کہ اُس پر ہر لمحہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نعمت و احسان کا نزول ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ خالق کائنات کی اطاعت و فرمابرداری کرتے ہوے اس کی رضا کے طلبگار بنے رہے، تاکہ کوئی عیش و عشرت کے عادی نہ بنے۔
حضرت ابوحامد امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں ’’والد کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو عیش و عشرت کا عادی نہ بنائے۔ اسی طرح زیب و زینت اور خوشحالی بھی اس کی رغبت دلانے والی اور پسندیدہ چیزیں نہ ہوں کہ ان کی عمر ان ہی {چیزوں} کی تلاش میں ضائع ہوجائے اور وہ ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد ہو جائیں‘‘۔
حضور خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں کو تیراندازی اور شہسواری کی ترغیب دیا کرتے، کیونکہ اس میں شجاعت و مردانہ پن اور مشکلات کا سامنا کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین آدمیوں کو جنگ میں داخل فرما دیتا ہے۔ پہلا: اُس تیر بنانے والے شخص کو، بشرطیکہ وہ نیکی کی نیت سے بنائے۔ دوسرا: اُسے چلانے والے کو ، تیسرا اس کے چلانے میں مدد کرنے والے کو بھی‘‘۔
حضور خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’تم تیر اندازی بھی کیا کرو اور شہسواری بھی۔ مجھے تمہاری تیراندازی کرنا شہسواری کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ مسلمان شخص کا ہر کھیل فضول ہے، البتہ تیر اندازی، گھوڑے کی تربیت اور اہل خانہ کے ساتھ کھیل کود درست ہے‘‘۔ {سنن نسائی}
ایک اور روایت میں ہے کہ ’’تم تیر اندازی اور شہسواری کیا کرو، جو شخص تیراندازی سیکھنے کے بعد اُسے نظرانداز کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا ہے، وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے انعام کی ناشکری کرتا ہے۔
خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ’’معد بن عدنان کی سی زندگی اپناؤ اور کھردرا لباس پہنا کرو‘‘۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ ناز و نعمت کی زندگی ترک کردو۔
{جامع ترمذی}
حضور خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و فرماں برداری کرنے کا ایک واقعہ حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ’’فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ‘‘ کے پاس مصر سے ایک شخص آیا۔ وہ اپنی اونٹنی ہانک رہے تھے۔ اس نے کہا ’’اے فضالہ! میں آپ کے پاس مہمان کی حیثیت سے نہیں آیا، میں آپ کے پاس ایک حدیث نبوی کی خاطر آیا ہوں اور یہ امید لے کر آیا ہوں کہ آپ کو اس کے متعلق کچھ علم ہوگا‘‘۔ مزید یہ کہ ان کے بکھرے ہوے بال دیکھ کر کہا ’’کیا وجہ ہے کہ تم شہر کے منتظم ہو اور تمہارے بال بکھرے ہوئے ہیں؟‘‘۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کثرت سے ناز و نعمت اختیار کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے‘‘۔ پھر انھیں پابرہنہ دیکھ کر کہنے لگا ’’کیا وجہ ہے کہ آپ نے جوتا بھی نہیں پہنا؟‘‘۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکماً کہا ہے کہ ہم کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی چلاکریں‘‘۔ (ابوداؤد)
ابوالورد نے ابن عبد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ میں تمھیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا کے بارے میں ایک بات سناتا ہوں۔ جب کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل خانہ میں سب سے زیادہ محبوب تھیں، چکی چلاتے چلاتے ان کے ہاتھوں پر نشان پڑگئے تھے اور مشکیزہ اٹھا نے کے سبب گردن پر نشان پڑگئے تھے۔ گھر کی صفائی کرنے سے لباس میلا ہو جاتا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آگئے۔ میں نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا سے کہا کہ اپنے والد (رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاکر ایک خادمہ لے آؤ۔ وہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ محو گفتگو تھے، لہذا واپس آگئیں۔ اگلے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمائے ’’تمھیں کیا کام تھا؟‘‘۔ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا خاموش ہو گئیں۔ میں (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے کہا ’’یارسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں بتا دیتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ چکی چلاتے چلاتے فاطمہ کے ہاتھوں پر نشان پڑ گئے ہیں، مشکیزہ اٹھانے سے گردن پر نشان پڑگئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے تو میں ان (حضرت فاطمہ) سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جاکر ایک خادمہ لے آئیں، جو حضرت فاطمہ کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹائے‘‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے فاطمہ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرکر زندگی گزارو، اپنے پروردگار کی طرف سے عائد کردہ فریضہ ادا کرتی رہو، اپنے گھریلو کام کرتی رہو اور جب بستر پر لیٹ جاؤ تو ۳۳ بار سبحان اﷲ، ۳۳ بار الحمد ﷲ اور ۳۴ بار اﷲ اکبر پڑھ لیا کرو۔ اس طرح پڑھنا تمہارے لئے خادمہ سے بہتر ہیں‘‘۔ انھوں نے جواب میں کہا ’’میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خوش ہوں‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی خادمہ نہیں دیا۔ (اقتباس، سنن ابوداؤد)
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT