Tuesday , September 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں

والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے والد نہایت اچھے انسان ہیں، وہ زید کا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی ہے کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں، اس سے زید کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ نمازوں کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے ۔ زید نماز پابندی سے پڑھتا ہے۔ زید کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کو شراب پینے اور نماز ترک کرنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا ۔ اس کے علاوہ دنیوی اعتبار سے وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ ایسی صورت میں زید کو کیا کرنا چاہئے جبکہ  زید ان کو سمجھا نہیں سکتا اور وہ سمجھ نہیں سکتے  ؟
جواب :  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والدین میں غیر شرعی عمل کو دیکھے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں اس عمل کی برائی کو ظاہر کرے اور نہایت سنجیدگی اور نرمی سے ان کو اس عمل سے روکے لیکن ان کو شدت سے نہیں روکنا چاہئے ۔ اگر وہ بات قبول کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ نفع المفتی والسائل ص ۱۰۷ میں ہے : فان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فیہ منفعۃ من امرہ و نھیہ عن المنکر والاب والام أحق بأن ینفع لھما … لکن ینبغی ان لا یعنف علی الوالدین فان قبلا فبھا والا سکت و اشتغل بالا ستغفار لھما کذا فی نصاب الاحتساب ۔
صحتِ ہبہ کیلئے موہوبہ شئی سے
ہٹ کر قبضـہ دینا ضروری ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لاولد ہونے کیوجہ اپنی ایک بھانجی اور ایک بھانجے (بکر)کو اپنا ایک مکان دو حصے دونوں کو آدھا آدھا حصہ دیدیا تھا، جس میں دونوں مقیم ہیں۔ زید کی بھانجی بھی شوہر اور اولاد نہ ہونے کی وجہ اپنا حصہ اپنے بھائی (بکر) کے نام کردی اور رجسٹری کرادی۔ جبکہ وہ خود اپنے حصہ میں مقیم ہے۔ایسی صورت میں زید کی بھانجی کو دیا گیا حصہ، اب کس کی ملک ہے  ؟
بینوا توجروا
جواب: بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہامیں زیدنے اپنی زندگی میں اپنے بھانجے بکر اور بھانجی کو اپنا مکان دیکر انکے قبضہ و تصرف میں دیدیا وہ مکان قبضہ کے ساتھ ہی جسکو جو حصہ دیا گیا وہ اس کی ملک ہوگیا۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلدکتاب الہبۃ میں ہے:  وتتمم الہبۃ بالقبض الکامل۔
پھراس مکان میں مقیم رہتے ہوئے زید کی بھانجی نے اپنا حصہ اپنے بھائی (بکر) کے نام رجسٹری کردی تو صرف رجسٹری کرنے سے وہ حصۂ مکان بکر کی ملک نہ ہوا، بلکہ اس حصہ کی مالکہ زید کی بھانجی ہی ہیں، کیونکہ صحت ہبہ کیلئے مکان موہوبہ سے ہٹ کر موہوب لہ کے قبضہ میں دینا ضروری ہے۔ اس کے بغیر مکان میں رہتے ہوئے اس کا ہبہ کرنے سے ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔فتاوی عالمگیری جلد ۴ کتاب الہبۃ ص ۳۸۰ میں ہے :  وفی المنتقی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی لایجوز یھب لامرأتہ ولا أن تھب لزوجھا أولأجنبی دارا وھما فیھا ساکنان وکذالک للولد الکبیر کذا فی الذخیرۃ۔ لہذا زید کی بھانجی اب بھی اپنے حصۂ مکان کی مالکہ ہے۔                       فقط واللّٰہ أعلم

TOPPOPULARRECENT