Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / واٹرمینجمنٹ میں نئی تکنیک کا استعمال ضروری:صدر کووند

واٹرمینجمنٹ میں نئی تکنیک کا استعمال ضروری:صدر کووند

نئی دہلی،10اکٹوبر(سیاست ڈاٹ کام)صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے انسانی زندگی کو خوشحال بنانے کیلئے پانی کو انتہائی اہم عنصر قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اگر ملک کی تعمیر نو کومضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے تو اس کیلئے پانی کا انتظام جدید طریقے سے کرنا ضروری ہے ۔ کووند نے آبی وسائل،ریور ڈیولپمنٹ اور تحفظ گنگا سے متعلق وزارت کے زیر اہتمام پانچ روزہ ’ پنچم بھارت سپتاہ-201‘کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کے استعمال کیلئے بہتر واٹر مینجمنٹ سماج کی بڑی ضرورت بن گئی ہے ۔پانی کے بغیر زندگی کی اہمیت نہیں ہے ،اسلئے پانی کی بہتر ترسیل لازمی ہے ۔یہ ہماری معیشت ،حالات اور انسانی سماج کے اتحاد کیلئے ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ہندوستان میں دنیا کی 17فیصد آبادی بستی ہے لیکن ہمارے پاس دنیا کا صرف چار فیصد آبی وسائل ہے ۔بدلتے حالات کے درمیان پانی زندگی کیلئے بڑا بحران بنتا جارہاہے ،اسلئے برابری اور ترقی کیلئے بہتر آبی مینجمنٹ لازمی ہے ۔صدر نے کہا کہ ملک کے سامنے اپنی عظم آبادی کو صاف پینے کا پانی دستیاب کرانے کے ساتھ ہی ہر کھیت تک اور سبھی کمپنیوںکو پانی پہنچانے کا بڑا چیلنج ہے ۔اس سے نمٹنے کیلئے جدید واٹر مینجمنٹ کے طریقے اپنائے جانے کی ضرورت ہے ۔صدر نے کہا کہ ملک کی 54فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے اس کے پیش نظر حکومت نے ہر کھیت تک پانی پہنچانے اور 2022تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا ہدف مقررکیا ہے ۔اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے آبپاشی والی اراضی کا دائرہ بڑھانا ضروری ہے اور اس کیلئے آب پاشی سے متعلق زیر التوا 99پروجیکٹوں کو وقت پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ان سبھی پروجیکٹوں میں سے 60فیصد خشک سالی متاثرہ علاقوں میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دستیاب 80 فیصد پانی کا استعمال کھیتی کیلئے کیا جاتاہے اور15 فیصد پانی کارخانوں کی ضرورتوں کو پورا کررہاہے ۔صاف پینے کے پانی کے ساتھ ہی کھیتوں ،کارخانوں اور دیگر سبھی ضرورتوں کے مطابق پانی مہیا کرانا ضروری ہے ۔ملک میں پانی کی مانگ لگاتار بڑھ رہی ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے پانی کا بہتر مینجمنٹ ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ کارخانوں کو بڑے پیمانہ پر پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور کارخانے ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔
ریگنگ پر22 آئی آئی ٹی اسٹوڈنٹس معطل
کانپور۔/10اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) کانپور نے اپنے 22طلباء کو ریگنگ کے الزامات پر ایک سال تا تین سال کی مدت کیلئے معطل کردیا ہے، ایک عہدہ دار نے آج یہ بات بتائی۔ یہ فیصلہ دوشنبہ کو آئی آئی ٹی سنیٹ نے کیا ہے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر منیندر اگروال نے یہاں میڈیا والوں کو بتایا کہ 16 اسٹوڈنٹس کو 3 سال اور 6 دیگر کو ایک سال کیلئے معطل کیا گیا ہے۔طلباء نے اپنے جونیرس کو مبینہ طور پر بہت تنگ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT