Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / واٹر گرڈ اور آبپاشی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل

واٹر گرڈ اور آبپاشی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل

ہر گھر کو پانی کی سربراہی ،چیف منسٹر کی عہدیداروں کے ساتھ کانفرنس
حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ہر گھر میں نل کے کنکشن اور پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق واٹر گرڈ اسکیم کے بارے میں سارا ملک اپنی نظریں جمائے ہوئے ہے جبکہ آئندہ انتخابات سے قبل ہر ایک کو پینے کا پانی فراہم نہ کرنے کی صورت میں ووٹ نہ مانگنے کا اعلان کرچکے ہیں، لہذاتلنگانہ عوام بھی اس اسکیم کی تکمیل کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ آج یہاں ڈاکٹر مری چنا ریڈی انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی وسائل میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے واٹر گرڈ اسکیم کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کاموں میں تیزی پیدا کرنے کی عہدیداروں کو ہدایات دیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ کاموں کے معیار میں کسی قسم کی جلد بازی یا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جاناچاہیئے۔ چیف منسٹر نے عصری و فنی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے طویل عرصہ تک کارآمد ہونے رہنے والے کام انجام دینے کا عہدیدارو ںکو مشورہ دیا۔ اس اجلاس میں وزیر پنچایت راج و انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ ، وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ، ارکان اسمبلی ڈاکٹر راجیا، ایم یادگیری ریڈی، شریمتی جی سنیتا، رورل واٹر سپلائی انجینئر اِن چیف مسٹر سریندر ریڈی، انجینئر ان چیف محکمہ آبپاشی مسٹر مرلیدھر راؤ و دیگر اعلیٰ و سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ مشیر حکومت برائے رورل واٹر سپلائی مسٹر گیانیشور بھی شریک تھے۔ چیف منسٹر نے اس بات پر اپنے افسوس کا اظہار کیا کہ آبپاشی پراجکٹس کے تعلق سے غیر معمولی تاخیر ہونے کاہر کوئی نام دیا کرتے ہیں۔
کامیابی کا سلسلہ جاری رہے گا :ای راجندر
حیدرآباد۔/25نومبر، ( این ایس ایس ) وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے آج کہا کہ مجوزہ جی ایچ ایم سی اور ریاست کے ایم ایل سی انتخابات میں ٹی آر ایس ورنگل ضمنی انتخابات میں کامیابی کا اعادہ کرے گی۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ورنگل کے انتخابی نتیجہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت عوامی کاز کیلئے کام کررہی ہے۔ اپوزیشن امیدوار اپنی ضمانت بھی نہیں بچاسکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس امیدوار پی دیاکر حکومت کی کئی بہبودی اسکیمات سے اپنے حلقہ کی عوام کو واقف کرانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ورنگل کی یہ کامیابی یقینا اپوزیشن پارٹیوں کیلئے ایک سبق ہے جو حکومت کے خلاف رکیک حملے کررہی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT