Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / !واہ ترقی واہ! ہندوستان دولت مند ملک بن گیا ! بیرونی سیاح بھکاری

!واہ ترقی واہ! ہندوستان دولت مند ملک بن گیا ! بیرونی سیاح بھکاری

نوٹوں کی تنسیخ کا کرشمہ ، حصول امداد کیلئے آسٹریلیائی ، فرانسیسی اور جرمن شہری کرتب دکھانے اور موسیقی بجانے پر مجبور

حیدرآباد۔27نومبر (سیاست نیوز ) نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ نے ملک میں آسٹریلیائی‘ فرانسیسی اور جرمن شہریوں کو بھکاری بنا دیا۔ حکومت ہند کے فیصلہ نے راجستھان واقع پشکر میں پھنسے سیاحوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی عوام سے امداد طلب کرنے پر مجبور کردیا۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے بموجب 10تا12افراد پر مشتمل سیاحوں کے دو گروپس جو کہ نوٹوں کی تنسیخ کے سبب پریشان تھے نے سڑک پر گائیکی اور موسیقی کے آلات بجاتے ہوئے عوام سے مدد طلب کی تاکہ وہ دہلی واپس پہنچ سکیں۔ پشکر کے علاقہ میں موجود گئو گھاٹ کے قریب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ان بیرونی سیاحوں نے موسیقی کے آلات بجانے شروع کردیئے اور ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ موجود تھے جن پر مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ پلے کارڈس پر موجود تحریر میں سیاحوں نے کہا کہ ان کے پاس اب کھانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں‘ اور وہ دہلی جانا چاہتے ہیں اسی لئے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں تاکہ لوگ ان کی مدد کریں۔ سیاحوں نے بتایا کہ اے ٹی ایم میں نقد رقومات نہ ہونے او ر ان کے پاس کارکرد کرنسی نہ ہونے کے سبب وہ اس طرح مدد طلب کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان سیاحوں کے گروپ کے بموجب انہیں اپنی اس کوشش سے 2600روپئے کارکرد کرنسی حاصل ہوئی ہے لیکن یہ ان سب کے راجستھان سے دہلی پہنچنے کیلئے ناکافی ہے۔یہ سیاح 8نومبر کو پشکر میلہ دیکھنے کیلئے یہاں پہنچے تھے لیکن 1000 اور500کے نوٹوں کی اچانک تنسیخ نے انہیں مشکلات میں مبتلاء کردیا۔ ان کے پاس جو کرنسی موجود تھی وہ ختم ہو چکی ہے اور اب جو کچھ ہے وہ پلاسٹک منی یا 1000اور500کے نوٹوں کی شکل میں موجود ہے جو منسوخ ہو چکے ہیں اور کارڈ کا استعمال ممکن نہیں ہو پا رہا ہے علاوہ ازیں اے ٹی ایم میں رقومات کی عدم موجودگی کے سبب انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آسٹریلیائی شہری جئے ڈن نے بتایا کہ 14نومبر کو پشکر میلہ کے اختتام کے بعد انہیں پینے کے پانی اور کھانے کیلئے بھی پیسے نہیں بچ پائے تھے۔ ایڈرلک نامی جرمن شہری نے بتایا کہ لوگوں سے مدد مانگنے کیلئے ان سیاحوں نے اس طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے دہلی واپسی کی منصوبہ بندی کی ہے اور اس عمل کے ذریعہ ان لوگوں نے 2600روپئے جمع کئے ہیں لیکن یہ رقم انہیں دہلی پہنچانے کیلئے کافی نہیں ہے۔اڈالین نامی فرانسیسی شہری نے بتایا کہ 14نومبر کے بعد سے اب تک ان لوگوں نے جس جگہ قیام کیا وہاں انہیں 500اور1000کے نوٹوں کے ذریعہ ادائیگی کی سہولت میسر آگئی لیکن اب وہ دہلی اپنے سفارتخانہ تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ دہلی تک کا سفر طئے کر سکیں۔ مقامی عوام کے بموجب پہلی مرتبہ اس سیاحتی مرکز پر کسی بیرونی شہری کو پیسے کیلئے موسیقی کے آلات بجاتے ہوئے مدد طلب کرتے دیکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT