Thursday , March 23 2017
Home / مضامین / واہ ویلنٹائن ڈے

واہ ویلنٹائن ڈے

مودی سے کے سی آر کی یکطرفہ محبت!
تلنگانہ میں اقلیتی اداروں کی تنظیم جدید آخر کب ہوگی؟
ٹی آر ایس اقلیتی قائدین بے بس و لاچار

محمد نعیم وجاہت
ویلنٹائن ڈے ساری دنیا میں ’’یوم محبت‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اور پیار کرنے والے جوڑے اس دن ایک دوسرے کو تحائف پیش کرتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر بھی بی جے پی سے قریب ہونے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ وہیں وزیراعظم نریندر مودی بڑے ہی پیار سے ٹی آر ایس کو دور رکھ رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے ڈھائی سال بعد کئی ممالک کا دورہ کرنے والے نریندر مودی نے مشن بھاگیرتا کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تلنگانہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو تلنگانہ کے عوام یہ اُمید کررہے تھے کہ وزیراعظم آندھراپردیش تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے ہیں اس کو عمل کرنے کا وعدہ تحفے میں پیش کریں گے یا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اُن وعدوں کی یاد دلاتے ہوئے ساتھ میں خصوصی پیاکیج بھی مانگ لیں گے۔ مگر عوام کو اُس وقت حیرت ہوئی جب وزیراعظم نے تقسیم آندھراپردیش بل کے وعدوں کو یاد نہیں کیا اور تعجب اس بات پر ہوا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے وزیراعظم سے ریاست کی ترقی کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ صرف مودی کے دل میں اپنے لئے جگہ طلب کی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کے سی آر بہت پہلے سے مودی کو پسند کرتے تھے اور موقع کی نزاکت سے اپنے دل کی بات زبان پر لادی۔ شاطر دماغ رکھنے والے پکّے سیاستداں نریندر مودی نے محبت کی پیشکش کو قبول بھی نہیں کیا اور مسترد بھی نہیں کیا۔ صرف مسکراکر چل دیئے۔ تلنگانہ تحریک کے روح رواں کے سی آر یہ سمجھ گئے کہ ان کا پیغام محبت ایک دن ضرور رنگ لائے گا تب سے اُنھوں نے سپنوں کی دنیا سنوارنا شروع کردی۔ ملک کی تاریخ میں 8 نومبر 2016 ء تاریخی دن تھا جب وزیراعظم نے کالا دھن، دہشت گردی، نقلی نوٹ کا بہانہ کرتے ہوئے ملک کی 86 فیصد کرنسی جو 500 اور 1000 روپئے پر مشتمل تھی اچانک منسوخ کردی جس سے ملک میں غیر معلنہ معاشی ایمرجنسی نافذ ہوگئی۔ عوام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ تمام سیاسی جماعتیں ماہرین معاشیات اور عام افراد نے اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کی۔ بی جے پی قائدین کو بھی وزیراعظم کے فیصلے کا دفاع کرنے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ اس نریندر مودی کے دام محبت میں مبتلا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنی طرف سے پیش کردہ محبت کے پیغام کو مزید مستحکم کرنے کے لئے نوٹ بندی کے فیصلے کو جرأتمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے غیر مشروط وزیراعظم کی تائید کردی۔ شاید چیف منسٹر تلنگانہ کو لگا کہ بی جے پی اور مودی سے مزید قریب ہونے کا اس سے بہترین موقع نہیں ملے گا۔ کے سی آر فوری دہلی پہونچ کر وزیراعظم سے ملاقات کی اور اپوزیشن و عوام کی تنقیدوں کا سامنا کرنے والے نریندر مودی کو دلاسہ دیا جس سے وزیراعظم کو کسی قدر حوصلہ ملا کیوں کہ انھیں این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کا بھی ساتھ نہیں ملا تھا۔ اس کے فوری 5 دن بعد پولیس آفیسرس کی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے وزیراعظم پولیس اکیڈیمی پہونچے۔ اُس وقت چیف منسٹر تلنگانہ نے ایرپورٹ پر جہاں وزیراعظم کا گرمجوشانہ خیرمقدم کیا اُسی انداز میں وداع بھی کیا۔ چیف منسٹر یہ سمجھ گئے تھے کہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے بھی ہر ملاقات میں اپنی طرف سے بھی مستقبل میں خوشگوار تعلقات کے اشارے دیئے تھے۔ نوٹ بندی کے مسئلہ پر جب پارلیمنٹ کی کارروائی مفلوج ہوگئی تھی تو چیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو اپوزیشن کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنسنے کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی ایک قدم مزید اور آگے بڑھتے ہوئے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو نوٹ بندی کی مباحث کا آغاز کرنے کی اجازت دی تھی جس سے بی جے پی کے دل میں ٹی آر ایس کے لئے مزید ہمدردی بڑھ گئی۔ ٹیلی ویژن مباحث میں بی جے پی قائدین نے ٹی آر ایس کی جم کر ستائش کی۔ ٹی آر ایس کو یقین ہوگیا تھا کہ کے سی آر اور مودی کی دوستی مستحکم ہوگی اور مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ پر اپنی بھرپور محبت نچھاور کرے گی۔ جب ثبوت دینے کا وقت آیا تو مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو مایوسی ہوئی۔ یہاں تک کہ ریلوے بجٹ میں بھی تلنگانہ سے کوئی انصاف نہیں کیا گیا جبکہ پڑوسی ریاست آندھراپردیش سے عام بجٹ اور ریلوے بجٹ دونوں میں انصاف ہوا۔ اس وقت دوستی کا ہاتھ آگے بڑھانے والے کے سی آر کو بہت بڑا دھکا لگا پھر بھی انھوں نے اپنے آپ پر کنٹرول کرتے ہوئے راست وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی بات ان کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دلت طبقہ کی اے بی سی ڈی زمرہ بندی کو بہانہ بناکر کُل جماعتی وفد کے ساتھ دہلی پہونچ کر وزیراعظم سے ملاقات کرنے کا وقت طلب کرلیا اور وزیراعظم نے ملاقات کے لئے وقت بھی مقرر کردیا۔ تاہم اچانک ایک دن قبل ملاقات کا وقت منسوخ کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر کو اپوزیشن جماعتوں میں رسوا کردیا۔ باوجود اس کے چیف منسٹر تلنگانہ دہلی گئے مگر وزیراعظم سے ملاقات کئے بغیر حیدرآباد واپس ہوگئے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کے سی آر اور مودی کے درمیان جو خوشگوار تعلقات قائم ہورہے تھے، اُس سے خود تلنگانہ کے بی جے پی قائدین خوش نہیں تھے اور ساتھ ہی این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم کے سربراہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو کو بھی اعتراض تھا۔ ایک نئی دوستی قائم کرنے کے لئے فی الوقت اپنے ارکان خاندان (بی جے پی) اور پڑوسی و این ڈی اے کی حلیف (تلگودیشم) کو ناراض کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے ملاقات کا وقت منسوخ کردیا گیا اور یہ بہانہ بنادیا گیا کہ 5 ریاستوں کے انتخابات جاری ہیں ایسے میں کوئی فیصلہ کرنا انتخابی قواعد کی خلاف ورزی ہوگا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دور بھاگنے کی کوشش کرنے والی بی جے پی سے ٹی آر ایس قریب ہونے کی کوشش کررہی ہے اور قریب رہنے والے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے دوری اختیار کررہی ہے۔ سارے ملک میں تلنگانہ واحد ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ اقلیتوں کا بجٹ ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے سال برائے 2016-17 ء میں اقلیتوں کے لئے 1205 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔ مگر اس کو قابل ستائش اُس وقت کہا جاتا جب منظور کردہ بجٹ مکمل خرچ کیا جاتا۔ جنوری 2017 ء کے اواخر تک صرف 400 کروڑ روپئے کا بجٹ ہی جاری کیا گیا۔ حکومت فروری کے تیسرے ہفتے میں بجٹ سیشن منعقد کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ اقلیتوں کے لئے منظور کردہ بجٹ میں 800 کروڑ روپئے خرچ نہیں کئے گئے۔ کیا یہ اقلیتوں سے ناانصافی اور جذبات سے کھلواڑ نہیں ہے۔ کیا حقائق بیان کرنا گناہ ہے۔ جب 1205 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا تو ٹی آر ایس کے قائدین بالخصوص اقلیتی قائدین نے چیف منسٹر کے سی آر کو اقلیتوں کا مسیحا، ہمدرد، نہ جانے کیا کیا کہا تھا مگر 800 کروڑ روپئے کی عدم اجرائی پر تمام ٹی آر ایس کے قائدین تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کوئی چیف منسٹر سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتے اور نہ ہی وزیر فینانس سے نمائندگی کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں اسمبلی کے سرمائی سیشن میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اسلامک کلچرل سنٹر کے لئے 40 کروڑ ، انیس الغرباء یتیم خانہ کے لئے 20 کروڑ ، فلک نما ڈگری کالج کے لئے 10 کروڑ اور مکہ مسجد کی تزئین نو کے لئے 8.40 کروڑ روپئے منظور کرنے کا اعلان کیا جملہ 80 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا جس کا مجلس نے خیرمقدم کیا مگر 800 کروڑ روپئے کی عدم اجرائی کے بارے میں حکومت اور چیف منسٹر سے کوئی وضاحت طلب نہیں کی بلکہ بجٹ کی عدم اجرائی کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر کو کلین چٹ دے دی۔

کیا 800 کروڑ کو بھول کر 80 کروڑ روپئے پر خوش ہونا چاہئے۔ اگر قیادت کا دعویٰ کرنے والی جماعت ہی حکومت سے میچ فکسنگ کرلے تو اقلیتوں کی ترقی کیسے ممکن ہے۔ ایوانوں میں موجود ٹی آر ایس مسلم قائدین کو حکومت اور ٹی آر ایس کی واہ واہ کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ جب 80 کروڑ روپئے کے اعلانات کئے گئے تو ٹی آر ایس کے قائدین نے چیف منسٹر کی تعریف کے پُل باندھ دیئے۔ کسی نے 800 کروڑ روپئے کی عدم اجرائی کو یاد کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ حق دلانا اور حق فراموش کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں۔ ہر سال اقلیتی بجٹ کے ہندسوں میں اضافہ کرنا کافی نہیں ہے مکمل بجٹ کی اجرائی بھی لازمی ہے۔ جب حکمراں جماعت کے اقلیتی قائدین سے حقائق پر مبنی تلخ سوال کئے جاتے ہیں تو انھیں چبھتے ہیں اور وہ ہم سے ہی تلگودیشم اور کانگریس کے دور حکومت میں اقلیتوں پر خرچ کئے گئے فنڈس کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے دونوں ہی جماعتوں نے اپنے دور اقتدار میں اقلیتوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے 2014 ء کے عام انتخابات میں اقلیتوں نے کانگریس اور تلگودیشم کو سبق سکھاتے ہوئے ٹی آر ایس پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا وہی تاریخ ٹی آر ایس دہرا رہی ہے۔ ماضی اور حال کی حکومت میں فرق کیا ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو غیر ضروری طول دیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے خلاف دستخطی مہم شروع کی گئی۔ پھر بھی چیف منسٹر تلنگانہ کو وزیراعظم نریندر مودی پر بھروسہ ہے۔ کیا یہ ممکن ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں سوائے اقلیتی بورڈ و کارپوریشن کے تمام کارپوریشن اور بورڈ کے صدرنشین کا انتخاب ہوگیا ہے۔ اقلیتی بورڈ کارپوریشن کی تشکیل نہ ہونے پر ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ان کارپوریشن کی تشکیل میں نہ کوئی رکاوٹ ہے اور نہ ہی کوئی اختلافات ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر جو بھی فیصلہ کرتے ہیں وہ پارٹی کے تمام قائدین اس کو قبول کرتے ہیں۔ ٹی آر ایس کی تشکیل سے اب تک کئی اقلیتی قائدین بغیر کسی اُمید کے ٹی آر ایس کی تحریک میں اہم رول ادا کیا اور ٹی آر ایس کے استحکام میں دوسرے قائدین کے برابر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے مگر ابھی تک جتنے بھی کارپوریشن اور بورڈ کے صدورنشین کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں ایک بھی مسلم قائد پر بھروسہ نہیں کیا گیا۔ ٹی آر ایس قائدین کی عام شکایت ہے کہ چیف منسٹر ان سے ملاقات نہیں کرتے۔ یہ رویہ پارٹی اور قیادت دونوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک چلنا پارٹی قائدین کی مایوسی کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا جب حالت پلٹ جاتے ہیں تو ہوا کا رُخ کا بھی بدل جاتا ہے۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین بھی خواب غفلت میں نہ رہیں۔ بلکہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اُٹھائیں ورنہ داستانوں میں بھی تمہاری داستان نہیں رہے گی۔ گزشتہ 32 ماہ کے دوران ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے اپنا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا اور نہ ہی اقلیتوں کے مسائل پر غور کیا، نہ ہی ان کی یکسوئی کے لئے حکومت یا چیف منسٹر سے کوئی نمائندگی کی۔ قیادت کرنے سے ہر کوئی ڈر رہا ہے۔ عہدے رکھنے اور عہدے نہ رکھنے والے قائدین کا یہی حال ہے۔ جو قائدین عہدے پر ہیں انھیں ڈر ہے کہ کہیں وہ عہدے سے محروم نہ ہوجائیں اور جو قائدین عہدوں کی دوڑ میں ہیں انھیں ڈر ہے کہ قیادت کرنے پر عہدوں کی دوڑ سے کہیں باہر نہ ہوجائیں۔ جب اس طرح نفسا نفسی کا معاملہ ہے تو ملت کا کیا ہوگا۔ ان کے مسائل کو کون اُٹھائے گا۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین مسلمانوں کے مسائل کو حکومت تک پہونچانے اور اسے حل کرانے سے قاصر ہیں۔ جب اپوزیشن کی جانب سے مسائل کو اٹھایا جارہا ہے تو اس کو تنقید کا نشانہ بنانے کو بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جارہا ہے۔ جو قائدین اپنی اور پارٹی کیڈر کی بات قیادت تک پہنچا نہیں سکتے اُن سے قوم و ملت کیا اُمیدیں وابستہ رکھ سکتی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT