Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / وجئے مالیا کی حوالگی کو یقینی بنانے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی مساعی

وجئے مالیا کی حوالگی کو یقینی بنانے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی مساعی

ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ کے ساتھ ہی وزارت خارجہ سے رجوع اور سی بی آئی سے بھی رابطہ
نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وجئے مالیا کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد حوصلہ پاکر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے وزارت خارجہ سے رجوع ہوکر ان کی حوالگی کے لئے پہل کرنے کی درخواست کی ہے۔ 900 کروڑ روپئے قرض کے مبینہ دھوکہ دہی کیس میں وجئے مالیا کے خلاف غیر قانونی رقومات کی منتقلی کے سلسلہ میں لندن سے ہندوستان حوالگی کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ایجنسی نے وزارت خارجہ کو مکتوب لکھنے کے علاوہ سی بی آئی سے رجوع ہوکر انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی خواہش کی تاکہ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری کو یقینی بنایا جاسکے۔ بمبئی عدالت کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ کی اجرائی کی بنیاد پر وجئے مالیا کو حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ صرف گزشتہ ہفتہ ہی وزارت خارجہ نے وجئے مالیا کے سفارتی پاسپورٹ کو معطل کردیا تھا اور ان سے وضاحت طلب کی تھی کہ آخر ان کے پاسپورٹ کو واپس کیوں نہ لیا جائے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کہاکہ رقومات کی غیرقانونی منتقلی کے کیس میں وجئے مالیا تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ہیں۔ ذرائع نے کہاکہ جب حوالگی کا عمل شروع ہوگا تو وزارت خارجہ کی جانب سے برطانیہ میں اپنے ہم منصب سے تعاون کی درخواست کی جائے گی

اور انھیں ہندوستان واپس لایا جائے گا۔ ان کی حوالگی کی ابتدائی دو بنیادیں ہیں۔ اول تو بمبئی عدالت نے ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا اور دوم بزنس مین کے پاسپورٹ کو منسوخ کیا گیا۔ مالیا کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ 2 مارچ کو ہندوستان سے روانہ ہونے کے بعد برطانیہ میں مقیم ہیں۔ حیدرآباد کی عدالت نے بھی کل ہی انھیں جی ایم آر حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ لمیٹیڈ کی جانب سے ان کے خلاف داخل کردہ چیک بونس کیس میں سزا کا اعلان کیا ہے۔ ان کی حوالگی کی تازہ درخواست کے ساتھ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے مالیا کو ہندوستان واپس لانے کی تمام قانونی کارروائیوں کو عملاً بروئے کار لایا ہے۔ 60 سالہ صنعت کار ماضی میں اس کیس کے سلسلہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ 3 سمن سے بچ کر نکل گئے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے سی بی آئی کی جانب سے گزشتہ سال ایف آئی آر رجسٹر کئے جانے کی بنیاد پر کیس درج کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT