Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وجئے واڑہ میں منہدمہ مسجد کی تعمیر کیلئے اراضی و رقمی منظوری

وجئے واڑہ میں منہدمہ مسجد کی تعمیر کیلئے اراضی و رقمی منظوری

مسجد ابوبکرؓ کی شہادت سے مسلمانوں میں ناراضگی پر چیف منسٹر کا اقدام ، جلیل خان کا بیان
حیدرآباد۔ 18۔ مئی  ( سیاست نیوز) وجئے واڑہ میں سڑک کی توسیع کے کام میں مسجد ابوبکرؓ کی شہادت پر مسلمانوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے نئی مسجد کی تعمیر کیلئے 290 مربع گز اراضی اور 35 لاکھ روپئے منظور کئے ہیں۔ وجئے واڑہ کے رکن اسمبلی جلیل خاں نے یہ انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی مسلمانوں نے اس مسئلہ پر چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی۔ جلیل خاں جو وجئے واڑہ کے دوسرے اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، بتایا کہ اگرچہ یہ معاملہ ان کے حلقہ انتخاب میں نہیں ہے لیکن انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کی چیف منسٹر سے ترجمانی کی۔  چندرا بابونائیڈو نے امام اور مؤذن کو ایک ایک مکان الاٹ کرنے اور ضرورت پڑنے پر تعمیری کاموں کیلئے مزید 15 لاکھ روپئے جاری کرنے سے اتفاق کیا۔ آر اینڈ بی کی جانب سے وجئے واڑہ اربن منڈل کے راما ورا پاڈو موضع میں مسجد ابوبکرؓ کو 16 مئی کو شہید کیا گیا جس کے خلاف وجئے واڑہ کے مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا۔ آندھراپردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کے عہدیداروںکی اس سلسلہ میں کی گئی نمائندگیاں بے اثر ثابت ہوئیں اور وقف بورڈ کے عہدیدار مسجد کی شہادت کو بے بسی کے ساتھ دیکھتے رہ گئے۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سڑک کی توسیع کے کام کے سلسلہ میں صرف ایک مسجد کو شہید کیا گیا جبکہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی شہید کرتے ہوئے متبادل جگہ فراہم کی گئی۔ حکومت نے مسجد ابوبکرؓ کیلئے سڑکی کی دوسری جانب 290 گز اراضی الاٹ کی ہے جس پر دو منزلہ مسجد تعمیر کی جائے گی ۔ مقامی مسلمانوں کو اس بات کا افسوس ہے کہ کلکٹر ضلع کرشنا کے مسلمان ہونے کے باوجود آر اینڈ بی کے حکام نے مسجد کو شہید کردیا ۔ ضلع کلکٹر احمد بابو کو مسجد کے انہدام کے خلاف وقف بورڈ کی جانب سے دو مکتوب روانہ کئے گئے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود آندھراپردیش و عہدیدارِ مجاز وقف بورڈ شیخ محمد اقبال نے مسجد کے تحفظ کیلئے ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیداروں سے بات چیت کی تھی۔ 12 مئی کو ضلع کلکٹر اور 10 مارچ کو سب کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ انجنیئر روڈ اینڈ بلڈنگ نیشنل ہائی وے اتھاریٹیز کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ ایل عبدالقادر نے دو علحدہ مکتوب روانہ کئے تھے۔ مکتوب میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ اوقافی جائیدادوں اور خاص طور پر عبادت گاہ کو وقف ایکٹ کے تحت منہدم نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کی ناراضگی کے بعد چیف منسٹر کی جانب سے متبادل جگہ کی فراہمی کے بعد احتجاج میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تلگو دیشم سے تعلق رکھنے والے مسلم قائدین اور عوامی نمائندے اس مسئلہ پر کھل کر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ مسجد کی شہادت کے خلاف ہیں تاہم حکومت کے خلاف اظہار خیال سے قاصر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT