Wednesday , April 26 2017
Home / Top Stories / وراناسی: مودی کے روڈشو میں مسلم رائے دہندوں کی اکثریت

وراناسی: مودی کے روڈشو میں مسلم رائے دہندوں کی اکثریت

ووٹوں میں تبدیل ہونا ناممکن ‘ کانگریس ۔ ایس پی اتحاد پر مودی کے جادو کا غلبہ ہونے کی بی جے پی کو توقع
وراناسی۔5مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مسلم رائے دہندے وزیراعظم نریندر مودی کے روڈ شو میں کثیر تعداد میں شریک ہوئے ‘ جب کہ ان کے محلوں میں روڈ شوز منعقد کئے گئے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف خیرسگالی کا مظاہرہ تھا جو اُن کے پارلیمانی انتخابی حلقہ میں بی جے پی امیدواروں کی تائید میں ووٹوں کی شکل میں تبدیل نہیں ہوگا ۔ مسلمان جملہ رائے دہندوں کی تعداد کا 20فیصد ہیں اور وہ متحدہ طور پر کانگریس ۔ سماج وادی پارٹی اتحاد کی تائید کررہے ہیں ۔ عملی اعتبار سے ان کی صفوں میں 8مارچ کی رائے دہی کے وقت کسی قسم کے انتشار کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔ 2012ء میں مسلمانوں کے ووٹوں کے انتشار سے کافی فائدہ بی جے پی کو حاصل ہوا تھا ‘ اُس نے 3اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن 403نشستی اسمبلی کیلئے اس بار بی جے پی نے ایک بھی مسلم کو اپنا امیدوار نہیں بنایا ۔ اگر چند مسلمان وزیراعظم کو ترقیاتی اسکیموں کے آغاز کا ذمہ دار سمجھتے ہیں تو اقلیتی طبقہ کی اکثریت نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ پر ناراض ہے ۔ نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد بی جے پی اپنی چمک دمک کھوچکی ہے ۔ اقلیتی طبقہ بی جے پی کی پالیسیوں پر ناراض ہے جن میں ہندو توا پر زور کی وجہ سے بھگوا پارٹی کے خلاف اقلیتی طبقہ متحد ہوگیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے متحدہ ووٹ ان تین نشستوں پر بھی جہاں 2012ء میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی ‘ بی جے پی کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی بہ نسبت زیادہ تھے ۔

حالانکہ کئی مرکزی وزراء نے چھوٹے اور بڑے پروگرامس منعقد کر کے رائے دہندوں کو ترغیب دینے کی کوشش کی ہے ‘ یہاں تک کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے پارلیمانی انتخابی حلقہ میں روڈ شو منعقد کیا ہے لیکن اس باتکی توقع بہت کم ہے کہ اُن کے روڈ شو میں شریک ہونے والے مسلم رائے دہندے اُن کی تائید میں ووٹ دیں گے ۔ ایک اور اطلاع کے بموجب بی جے پی کو امیدہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا جادو ان کے لوک سبھا انتخابی حلقہ میں کانگریس ۔ سماج وادی پارٹی اتحاد پر غالب آئے گا ۔ اپوزیشن کے ووٹ بی جے پی کے خیال کے مطابق متحدہ طور پر اس کو حاصل ہوں گے ۔ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے اپوزیشن کے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کثیر جہتی عوامی جلسے جو وزیراعظم نریندر مودی نے منعقد کئے ہیں اور کثیر تعداد میں مرکزی وزراء اور پارٹی کے اعلیٰ سطحی قائدین نے مسلمانوں کی صفوں کو توڑ دینے کی کوشش کی ہے اور انہیں منتشر کرنے کیلئے کئی چالیں چلی ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ چالیں ناکام ہورہی ہیں ۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر شعبہ پولیٹیکل سائنس اشوک کمار اپادھیائے نے کہا کہ وہ تنقید نہیں کرنا چاہتے لیکن بی جے پی اور عوام محسوس کرسکتے ہیں کہ رائے دہندوں کا کیا موقف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں نریندر مودی نے وزیراعظم کے عہدہ کا وقار کم کردیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT