Friday , September 22 2017
Home / دنیا / ورجینیا معاملے میں ٹرمپ کو شدید تنقید وں کا سامنا

ورجینیا معاملے میں ٹرمپ کو شدید تنقید وں کا سامنا

واشنگٹن، 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ورجینیا میں ہوئی پرتشدد جھڑپ کیلئے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں اطراف کو ذمہ دار قرار دینے والے بیان کی ریپبلکن پارٹی کے سینئر لیڈروں اور معاون ملک برطانیہ نے تنقید کی ہے ۔امریکی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کے لیڈر مچ میک کونیل نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے مسٹر ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہاکہ نفرت اور شدت پسندی کے پیغام کا امریکہ میں کہیں بھی خیرمقدم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ہم نفرت پھیلانے والے کسی بھی نظریہ کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کے خلاف متحد ہونا ہماری ذمہ داری ہے ۔واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ نے پیر کو ایک بیان میں سفید فام نسل پرستوں کی مذمت کی تھی، تاہم منگل کو نیویارک میں انھوں نے بائیں بازو کے گروپس کو بھی قصور وار ٹھہرایاتھا ۔شارلٹس ولے شہر میں ہونے والے ان مظاہروں میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد دوسرے زخمی ہو گئے تھے ۔ ان ہنگاموں میں ہیتھر ہائر نامی 32 سالہ خاتون اس وقت ہلاک ہو گئی تھی جب ایک شخص نے ان پر کار چڑھا دی تھی۔صدر ٹرمپ کو اس بیان کے لیے شدید تنقید کا سامنا ہے اور مبصرین کے مطابق اس سے انھیں دور رس نقصان ہو سکتا ہے ۔ نمایاں رپبلکن رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے تنقید کی ہے ۔ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن اسپیکر پال رائن نے کہا کہ یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ سفید فام نسل پرستی نفرت انگیز ہے ۔رپبلکن سینیٹر جان میک کین نے ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ‘نسل پرستوں اور ان امریکیوں کے درمیان کوئی اخلاقی مطابقت نہیں ہے جو نفرت اور تعصب کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔’ایریزونا کے سینیٹر جیف فلیکس نے کہا ہے کہ سفید فام نسل پرستی کے لیے بہانے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ سفید فام نسل پرستوں میں بھی اچھے لوگ موجود ہیں۔ اگر ان کی جانب سے نسل پرستوں کی مذمت میں تاخیر نے ایک سیاسی آگ بھڑکائی تھی تو منگل کو انھوں نے اس آگ پر تیل ڈال دیا اور وہ شعلوں کے گرد ناچ رہے ہیں۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے ٹویٹ کی: ‘عظیم اور اچھے امریکی صدر متحد کرتے ہیں، تقسیم نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT