Tuesday , June 27 2017
Home / کھیل کی خبریں / ورلڈکپ 2022 ‘ فیفاکی قطر کے حالات پر گہری نظر

ورلڈکپ 2022 ‘ فیفاکی قطر کے حالات پر گہری نظر

خطے میں کئی اہم مقابلوں پر سوالیہ نشان

دوحہ۔8 جون (سیاست ڈاٹ کام ) قطر کے خلیجی پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی اور سفارتی تنازعات کے اثرات خطے میں کھیلوں کے مقابلوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ یہ خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے اور کئی ممالک کے ایک دوسرے سے سفارتی تعلقات بھی نہیںہیں۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ختم کر لئے ہیں، جس کے نتیجہ میں ایرانی فٹبال کلب پرسی پولیس اور سعودی کل الاہلی کے درمیان ایشئین چیمپئنز لیگ کا دو مرحلوں (ہوم اینڈ اوے) میں کوارٹر فائنل خطرے میں پڑ گیا ہے جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پہلے ہی ان ممالک میں نہیں کھیلا جارہا جس کی وجہ سے پہلا مرحلہ غیر جانبدارنہ مقام قطر کے دارالحکومت دوحہ کو منتخب کیا گیا تھا جبکہ دوسرے مرحلے
کا میچ عمان میںکھیلا جائے گا۔ علاوہ ازیں اگست اور ستمبر میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان میچوں کا بھی نیا شیڈول مرتب کرنا ہوگا۔ ایران نے اپنے نیوٹرل وینو کے طورپر عمان اور سعودی عرب نے قطر کو منتخب کیا تھا۔ چونکہ دبئی اور قطر کے درمیان پروازیں معطل ہیں لہٰذا جنوبی کوریا کی ٹیم جو اس وقت عراق سے وارم اپ میچ کے لئے متحدہ عرب امارات میں ہے، وہ 13جون کو ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ کھیلنے کے لئے قطر نہیں جاسکے گی۔ اسے میچ کے لئے اپنا سفری منصوبہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ سعودی کلب الاہلی نے قطر ایئرویز سے اپنا اسپانسر شپ معاہدہ بھی منسوخ کردیا ہے۔ دسمبر میں گلف فٹبال کپ کا قطر میں انعقاد بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ 2022کا ورلڈ فٹبال کپ قطر میں ہونا طے ہے۔ جس میں اب بھی پانچ سال کا عرصہ باقی ہے لیکن انفرااسٹرکچر اور اسٹیڈیمز کا تعمیراتی کام خطے کے ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے نتیجے میں شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ فی الحال فیفا کی قیادت خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن اگر حالات کی سنگینی جاری رہی تو اس کا کوئی واضح موقف بھی سامنے آسکتا ہے۔یادرہے کہ سعودی عرب نے قطر پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس کا نہ صرف ایران کی سمت جھکاؤ ہے بلکہ وہ القاعدہ ‘دولت اسلامیہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ مالی امداد بھی کررہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT