Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل الیکشن میں دھکا پر ہی بی سی کمیشن پکا : جیون ریڈی

ورنگل الیکشن میں دھکا پر ہی بی سی کمیشن پکا : جیون ریڈی

 

ت12% تحفظات پر مسلمانوں کی جماعت کیوں خاموش ہے؟ کانگریس نے بھی ہائیکورٹ کی پھٹکار کے بعد غلطی سدھاری تھی
حیدرآباد۔5 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر مسٹر ٹی جیون ریڈی نے نیوز ایڈیٹر سیاست مسٹر عامر علی خاں سے ملاقات کی اور  روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جارہی 12% مسلم تحفظات کی بھرپور تائید کی۔ بی سی کمیشن تشکیل دیئے بغیر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے لوک سبھا حلقہ ورنگل کے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے حکومت کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کی عوام سے اپیل کی۔ حلقہ اسمبلی جگتیال ضلع کریم نگر کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے سینئر لیڈر مسٹر ٹی جیون ریڈی آج دفتر سیاست پہنچ کر نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست مسٹر عامر علی خاں سے تفصیلی ملاقات کی اور 12% مسلم تحفظات کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تحریک تو اپنے آپ کو ’مسلمانوں کا چمپین‘ قرار دینے والی جماعت کو چلانا چاہئے تھا مگر سیاست کی جانب سے چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے 12% مسلم تحفظات کے وعدے کے بارے میں عمل آوری کیلئے قانون اور دستور میں پائی جانے والی گنجائش اور دوسری ریاستوں میں عمل ہونے والے مسلم تحفظات پر وضاحت طلب کی۔ مسٹر عامر علی خاں نے تمام تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بی سی کمیشن کی تشکیل تک مسلمانوں کو 12% مسلم تحفظات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کو بنیادبناکر مسلمانوں کو 5% تحفظات فراہم کیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے اس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا تھا۔ مسٹر جیون ریڈی نے کہا کہ ہائیکورٹ کی پھٹکار کے بعد کانگریس حکومت نے اپنی غلطی کو سدھارتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو 4% تحفظات دیا ہے۔ تمام ریکارڈس سامنے ہونے کے باوجود ٹی آر ایس حکومت بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے سدھیر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اس سے حکومت کی مسلمانوں کے متعلق غیرسنجیدگی ظاہر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیٹی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی اور نہ ہی سدھیر کمیٹی کی سفارش کو عدلیہ قبول کرتی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے اسمبلی میں 12% مسلم تحفظات کی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ٹی آر ایس حکومت، مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو کبھی نہیں پورا کرے گی کیونکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی مسلم تحفظات کے خلاف ہیں۔ آر ایس ایس موجودہ تمام طبقات کے تحفظات کا جائزہ لینے پر زور دے رہا ہے۔ وہ کیسے مسلم تحفظات کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے اپنی جانب سے سیاست کی طرف سے چلائی جانے والی 12% مسلم تحفظات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ورنگل کے ضمنی انتخاب اور اسمبلی میں اس کو موضوع بحث بنانے کا اعلان کیا اور ورنگل کے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ضمنی انتخاب کو بہترین موقع تصور کریں۔ کانگریس امیدوار مسٹر سروے ستیہ نارائنا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے مسلم تحفظات سے انحراف کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کو سبق سکھائیں۔ سیاست کی جانب سے انگلش ویکلی شروع کرنے پر مسٹر عامر علی خاں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کے انگلش ویکلی سے غیراُردو داں افراد کو مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت حاصل ہوگی۔ مسٹر جیون ریڈی نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک میں روزگار کی وجہ سے مسلمانوں کی کسی قدر معاشی حالت ٹھیک ہوئی ہے۔ ضلع کریم نگر سے سینکڑوں مسلمان خلیجی ممالک میں روزگار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کی صحافتی خدمات کے علاوہ سماجی اور فلاحی خدمات سے بے حد متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی قوم و ملت کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مسٹر ٹی جیون ریڈی نے فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے بیف کو تنازعہ بنانے اور عدم رواداری کی فضاء پھیلانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے عوام کو ہندو۔مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں تعاون پر زور دیا اور حلقہ لوک سبھا ورنگل کے عوام سے اپیل کی وہ بی جے پی کے امیدوار کو شکست دیتے ہوئے فرقہ پرستی کے خلاف سماج بیدار ہونے کا ثبوت دے اور ساتھ ہی ٹی آر ایس کے امیدوار کو شکست دیتے ہوئے وعدوں پر عمل نہ کرنے کی حکمران ٹی آر ایس کو سزا دیں۔ کانگریس کی کامیابی سیکولرازم کو مستحکم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی۔ کانگریس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ورنگل کے ضمنی انتخاب میں دھکا لگنے کے بعد ہی ٹی آر ایس کو ہوش آئے گا اور وہ بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات دینے پر مجبور ہوگی۔ مسلم تحفظات پر مجلس خاموش کیوں ہے، سب کا غرور توڑنے کا وقت آگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT