Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل اور نلگنڈہ کارپوریشن انتخاب ،کانگریس کی نئی حکمت عملی،ملوبٹی وکرامارک اور راجگوپال ریڈی کو ذمہ داریاں

ورنگل اور نلگنڈہ کارپوریشن انتخاب ،کانگریس کی نئی حکمت عملی،ملوبٹی وکرامارک اور راجگوپال ریڈی کو ذمہ داریاں

حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی نئی حکمت عملی کے تحت کھمم سے تعلق رکھنے والے ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک کو ورنگل کارپوریشن کی اور ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ایم ایل سی راجگوپال ریڈی کو کھمم کارپوریشن کی ذمہ داری سونپنے پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں شکست کے بعد تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایک نیا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ جس سے پارٹی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے گریٹر کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشن کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور اس کو وہ تجربہ کے طور پر آزمانا چاہتے ہیں۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی و ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو کھمم انتخابات کی ذمہ داری سونپنے کے بجائے انہیں ورنگل کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ ان کے معاون کی ذمہ داری کانگریس کے سینئیر قائد مسٹر کودنڈا ریڈی کو دی گئی ہے ۔ ضلع نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر کے راج گوپال ریڈی کو کھمم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ انہیں تعاون کرنے کی ذمہ داری ضلع محبوب نگر کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر سمپت کمار کو دی گئی ہے ۔ جس پر پارٹی حلقوں میں اعتراض ہورہا ہے ۔ پارٹی قائدین کا احساس ہے کہ ملوبٹی وکرامارک کھمم میں رہتے ہیں اور مقامی قائدین اور کارکنوں سے ان کے تعلقات ہیں اور کمیونسٹ جماعتوں سے بھی ان کے اچھے روابط ہیں ۔ کون طاقتور ہے اور کس کو ٹکٹ دیا جاسکتا ہے ۔ وہ تمام چیزوں سے بخوبی واقف ہیں ۔ پہلے ہی ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں کانگریس کی ضمانت ضبط ہوئی ہے اور جی ایچ ایم سی میں 150 کے منجملہ کانگریس کو صرف 2 بلدی نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے ۔ اس حالت میں نئے نئے تجربات پارٹی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہونچا سکتے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ورنگل لوک سبھا کے ضمنی چناؤ کے بعد کانگریس کے سابق وزیر مسٹر بی ساریا کانگریس کی سرگرمیوں سے دور ہیں اور پارٹی قیادت کے اس فیصلے پر ناراض ہیں ۔ پہلے سے ہی کانگریس کے کئی قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں اور مسٹر بی ساریا سے بھی ٹی آر ایس رابطے میں ہے ۔ کانگریس نے دونوں کارپوریشنس کی انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے ۔ دونوں کارپوریشن کے مقامی قائدین سے مشاورت شروع کردی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT