Monday , August 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ورنگل ایجوکیشن ہب کی تیاریوں کا آغاز

ورنگل ایجوکیشن ہب کی تیاریوں کا آغاز

تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی، ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری کا بیان

ورنگل۔/13جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ورنگل کو ایجوکیشن ہب میں تبدیل کیا جارہا ہے جس کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ نئے تعلیمی سال سے 4نئے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا آغاز ہوگا۔ اداروں کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے ہنمکنڈہ گیسٹ ہاوز میں منعقدہ  پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے ورنگل میں 4تا6جنوری قیام کے دوران ورنگل کی ترقی کیلئے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ورنگل کی ترقی اور ورنگل کو ایجوکیشن ہب میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات  کئے جارہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ ورنگل میں نئے تعلیمی سال سے وٹرنری کالج، اگریکلچرل کالج، حیدرآباد پبلک اسکول کی شاخ کے قیام کا آغاز کیا جائے گا۔ علاوہ اس کے ورنگل میں کاٹن ریسرچ سنٹر، ٹرائبل یونیورسٹی کا قیام، سینک اسکول کے قیام کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مامنور وٹرنری کالج، پالی ٹیکنک کالج کے قیام کیلئے 120ایکر اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نئے تعلیمی سال سے تعلیم کے آغاز کیلئے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے اس طرح ملگ روڈ پر واقع اے آر ایس میں اگریکلچرل کالج قائم کیا جائے گا جبکہ حیدرآباد پبلک اسکول کے قیام کیلئے مڈی کونڈا میں 18ایکر اراضی مختص کی گئی ہے۔15کروڑ کی لاگت سے اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ عارضی طور پر نئے تعلیمی سال 2016-17 کیلئے اسکول کو حسن پرتی میں شروع کیا جائے گا جہاں پر ایل کے جی تا پانچویں جماعت داخلے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن ریسرچ اسٹیشن کیلئے ملگ روڈ پر اگریکلچرل کالج کیلئے مختص ارضی میں سے پانچ ایکڑ مختص کئے جائیں گے۔ ریسرچ کیلئے سدھا پور میں مزید 40ایکر اراضی مختص کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں سینکڑوں ایکر اراضی حکومت کی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وٹرنری کالج کے قیام کیلئے وٹرنری کونسل آف انڈیا کو منصوبہ روانہ کیا جارہا ہے۔ منظوری ملنے کے ساتھ ہی کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ نئے تعلیمی سال سے ہی چار نئے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا آغاز ہوگا۔ اس موقع پر ضلع پریشد چیرپرسن پدما، ایم ایل اے آر رمیش، ٹی آر ایس ضلع صدر رویندر و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT