Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل ضمنی انتخابات ، کے سی آر اور ٹی آر ایس کیلئے سیاسی امتحان

ورنگل ضمنی انتخابات ، کے سی آر اور ٹی آر ایس کیلئے سیاسی امتحان

حلقہ پر قبضہ برقرار رکھنے حکمراں جماعت کی کوشش، کانگریس، ٹی ڈی پی ۔ بی جے پی بھی سرگرم
حیدرآباد۔8 نومبر (پی ٹی آئی) حلقہ لوک سبھا ورنگل (محفوظ برائے پسماندہ طبقات) کیلئے 21 نومبر کو منعقد شدنی ضمنی انتخابات، ٹی آر ایس اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مقبولیت کے سوال پر گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات کے بعد پہلا اہم سیاسی امتحان ثابت ہوں گے۔ ہمہ رکنی ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار پاسو نوری دیاکر کو کانگریس کے امیدوار اور سابق مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا، بی جے پی۔ تلگو دیشم اتحاد کے امیدوار اور کئی برسوں سے امریکہ میں مقیم ڈاکٹر اور پیشہ طب کے ماہر پی دیویا کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس کے نلہ سوریہ پرکاش اور بائیں بازو کے تائید یافتہ گالی ونود کمار سے مقابلہ ہے۔ اس نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) نے اپنے کئی سرکردہ وزراء کو پارلیمانی حلقہ کے تحت مختلف اسمبلی حلقوں کا انچارج مقرر کیا ہے۔ خود ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری جن کے اس پارلیمانی حلقہ سے استعفے کے سبب یہ انتخابات ناگزیر ہوئے ہیں، ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے صدر اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی مہم میں حصہ لیں گے ۔ کانگریس کو اپنے امیدوار سرسلہ راجیا کے گھر پیش آئے آتشزدگی کے اس واقعہ سے زبردست دھکہ لگا جس میں پرچہ نامزدگی کے آخری دن ان کی بہو اور تین پوترے خاکستر ہوگئے تھے۔ بعدازاں راجیا ، ان کے بیٹے انیل اور بیوی مادھوی کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس طرح کانگریس کو مجبوراً راجیا کی جگہ سروے ستیہ نارائنا کو امیدوار بنانا پڑا تھا، تاہم کانگریس نے سروے ستیہ نارائنا کی بھاری اکثریت سے کامیابی کا یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے۔ دوسری طرف مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ، بی جے پی ریاستی یونٹ کے صدر جی کشن ریڈی اور تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کے فلور لیڈر کے لکشمن نے گزشتہ روز تلگو دیشم پارٹی کے صدر اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی امیدوار دیویا کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر جگن موہن ریڈی بھی ورنگل میں اپنے امیدوار کی تائید میں حصہ لیں گے۔ ورنگل میں 15 لاکھ ووٹرس ہیں ۔ 21 نومبر کو رائے دہی اور 24 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مصیبت زدہ کسانوں تک رسائی میں ناکام ہوگئی ہے اور کسان یقینا حکمراں جماعت کے خلاف ووٹ دیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT