Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل ضمنی انتخاب ‘ سرکاری مشنری کا بیجا استعمال

ورنگل ضمنی انتخاب ‘ سرکاری مشنری کا بیجا استعمال

ضابطہ کی خلاف ورزی ‘ بی جے پی و تلگودیشم کی الیکشن کمیشن سے شکایت
حیدرآباد 14 نومبر ( سیاست نیوز ) تلگودیشم اور بی جے پی نے ریاستی حکومت پر ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں سرکاری مشنری کے بیجا استعمال اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے ۔ بی جے پی و تلگودیشم قائدین کی مشترکہ دستخطوں سے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے دونوں جماعتوں نے کہا کہ ورنگل میں کئی موقعوں پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ کئی وزرا یہاں دورے کر رہے ہیں اور خود ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری وہیں مقیم ہیں۔ سرکاری مشنری کا بیجا استعمال ہو رہا ہے اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ ان جماعتوں نے ادعا کیا ہے کہ حکومت نے کل ہی کالوجی نارائن راؤ ہیلت یونیورسٹی کیلئے وائس چانسلر کا تقرر عمل میں لایا ہے جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے ۔ پارٹیوں نے ادعا کیا کہ وائس چانسلر کے تقرر کے سماج پر اثرات ہوتے ہیں اور اسی کا ریاستی حکومت نے ضمنی انتخاب میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ ان جماعتوں نے شکایت کی کہ ریاستی حکومت نے کانسٹیبلوں کے تقررات اور عثمانیہ یونیورسٹی ہاسٹلوں کے میس کے بقایہ جات بھی ادا کرنے کا پالیسی اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ 42 روزہ سکالا جنولا سمے کے ایام کو حکومت نے خصوصی رخصت تصور کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ یہ مسئلہ گذشتہ دیڑھ سال سے التوا میں تھا اور اب حکومت نے انتخابات میں فائدہ اٹھانے یہ پالسیی اعلان کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT