Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل میں اپوزیشن کا موزوں امیدوار نہیں

ورنگل میں اپوزیشن کا موزوں امیدوار نہیں

تلگو دیشم قائدین عوام کا سامنا کرنے سے قاصر ، ہریش راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم اور کانگریس کو ورنگل میں ٹی آر ایس سے مقابلہ کیلئے موزوں امیدوار دستیاب نہیں ہوا، اور وہ مخالف تلنگانہ موقف کے باعث رائے دہندوں کا سامنا نہیں کرسکے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی نے تلنگانہ جدوجہد کے دوران جس انداز میں مخالفت کی تھی اس سے عوام اچھی طرح واقف ہیں لہذا تلگودیشم قائدین عوام کا سامنا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو ٹی آر ایس کے خلاف امیدوار دستیاب نہیں ہوا لہذا غیرمقامی افراد کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ورنگل میں امیدوار دستیاب نہیں جس کے باعث ایک کارگذار امیدوار کی حیثیت سے سروے ستیہ نارائنا کو میدان میں اُتارا گیا۔ بی جے پی نے امریکہ سے امیدوار کو درآمد کیا ہے کیونکہ ضلع میں کوئی بھی عوامی مقبولیت کا حامل قائد موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے مقابلہ میں بیشتر امیدوار غیر مقامی ہیں لہذا مقامی اور عام کارکن کی حیثیت سے پی دیاکر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔ ہریش راؤ نے کہاکہ ضلع میں ٹی آر ایس حکومت نے جن ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا ہے وہ امیدوار کی کامیابی کیلئے کافی ہے۔ ٹی آر ایس کی انتخابی مہم میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ عام طور پر سیاسی جماعتیں دولت مند شخص کو امیدوار بنانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک میں ایک عام کارکن کی حیثیت سے حصہ لینے والے دیاکر کو امیدوار بنایا جس کا عوام کی جانب سے زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جس شخص کو امیدوار کے طور پر اعلان کیا تھا اسے برقرار نہیں رکھ سکی اور اب جس شخص کو میدان میں اُتارا گیا ہے وہ صرف ضابطہ کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دیڑھ سالہ کارکردگی ٹی آر ایس کا انتخابی ایجنڈہ ہے اور یہی ایجنڈہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔ اسی دوران ورنگل میں پارٹی کی انتخابی مہم میں کئی اہم وزراء کو شامل کیا گیا ہے جو رائے دہی کی تاریخ تک ضلع میں قیام کریں گے۔ ہریش راؤ کے علاوہ کے ٹی آر، جگدیش ریڈی، کڈیم سری ہری، لکشما ریڈی اور دیگر وزراء کو ایک، ایک اسمبلی حلقہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی و کونسل کو انتخابی مہم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT