Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل میں مسلم رائے دہندوں کی ناراضگی پر چیف منسٹر کی حرکت ، انٹلی جنس رپورٹ پر حکومت کی حکمت

ورنگل میں مسلم رائے دہندوں کی ناراضگی پر چیف منسٹر کی حرکت ، انٹلی جنس رپورٹ پر حکومت کی حکمت

مختلف شخصیتوں سے ملاقات کرنے محمد محمود علی کو ہدایت ، کے سی آر کے لیے سبق ثابت کرنے ناراض افراد کا منصوبہ
حیدرآباد ۔ 16۔ نومبر (سیاست نیوز) ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخابات میں مسلم رائے دہندوں کی ناراضگی برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور پارٹی کو انتخابی مہم کے سلسلہ میں موصولہ اطلاعات کے مطابق لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے  تمام 7 اسمبلی حلقوں میں انتخابی مہم کے دوران مسلم رائے دہندوں نے حکومت کے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی اور خاص طور پر 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے بارے میں سوالات کئے ہیں۔ پارٹی حلقوں کے علاوہ انٹلیجنس کی جانب سے بھی حکومت کو مسلمانوں کی ناراضگی کے بارے میں رپورٹ موصول ہوئی جس کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حرکت میں آگئے ۔ انہوں نے انتخابی مہم میں مصروف وزراء اورعوامی نمائندوں سے ربط قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے مقامی مسلم مذہبی اور سماجی قائدین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ورنگل کے تمام  مذہبی ، سماجی اور رضاکارانہ تنظیموں سے وابستہ مسلم نمائندوں سے ربط قائم کریں اور مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر جو ورنگل انتخابی مہم میں مصروف ہیں، بتایا جاتا ہے کہ 19 نومبر تک ورنگل میں کیمپ کریں گے، جو انتخابی مہم کا آخری دن ہوگا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران ورنگل سے تعلق رکھنے والی جن اہم مسلم شخصیتوں نے اہم رول ادا کیا تھا، انہیں ضمنی چناؤ کے فوری بعد اہم سرکاری عہدوں کا لالچ دیتے ہوئے انہیں مہم میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو اقلیتی قائدین انتخابی مہم میں مصروف ہیں، انہیں جگہ جگہ مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا ہے۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والے کئی اقلیتی قائدین اور کارکن انتخابی مہم میں حصہ لینے سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں مسلمانوں کے مختلف سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دیڑھ سال میں اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات میں ناکامی سے پارٹی کے اقلیتی قائدین خوش نہیں ہیں ۔ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما کو ایک مسلم ادارہ کے صدرنشین کے عہدہ کا لالچ دیا گیا ہے اور وہ کسی طرح وزراء کے ساتھ پارٹی کی انتخابی مہم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ایک سینئر قائد نے اعتراف کیا کہ ورنگل لوک سبھا حلقہ کی انتخابی مہم پارٹی کیلئے دشوارکن بن چکی ہے کیونکہ مسلمانوں کے علاوہ کسان اور عام آدمی بھی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے اقلیتی قائدین کو  انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں حصہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ بعض ناراض اقلیتی قائدین چاہتے ہیں کہ ورنگل انتخابی نتیجہ چیف منسٹر کیلئے ایک سبق ثابت ہو۔ بھلے ہی پارٹی کامیابی حاصل کرے لیکن ووٹوں کی اکثریت گزشتہ عام انتخابات کے برابر نہیں ہونی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT